حدیث

بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو آزاد کراؤ"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه البخاري

عربی متن

عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَطْعِمُوا الجَائِعَ، وَعُودُوا المَرِيضَ، وَفُكُّوا العَانِيَ».

ترجمہ

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو آزاد کراؤ"۔

تشریح

اللہ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ حق ہے کہ بھوکے کو کھانا کھلائے، مریض کی عیادت کرے اور قیدی کو رہا کرائے۔

فوائد

  • مسلمانوں کے درمیان باہمی تعاون کی ترغیب۔
  • بھوکے محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب، کیونکہ اسے کھانا کھلانے کا حکم دیا گیا ہے۔
  • مریض کی بیمار پرسی، اس کی دل جوئی، اس کے لیے دعا، اجر کے حصول اور دیگر امور کی خاطر مشروع ہے۔
  • قیدی کو جب کفار قید کرلیں تو اسے چھڑانے کا اہتمام کرنا، چاہے یہ ان سے چھڑانے کے لیے کوئی معاوضہ دے کر ہو، یا پھر کفار کے کسی قیدی کے ساتھ اس کا تبادلہ کرکے ہو۔
تشریح: العربية

بيَّن النبي صلى الله عليه وسلم أن من حق المسلم على أخيه المسلم أن يطعم الجائع، ويزور المريض، ويفك الأسير.

  • الحث على التعاون بين المسلمين.
  • الحث على إطعام الجائع المحتاج إلى الطعام، فهذا مأمورٌ بإطعامه.
  • مشروعية العيادة للمريض؛ جبرًا لخاطره، والدعاء له، وحصول الأجر، وغير ذلك.
  • الحرص على فك الأسير إذا أسَره الكفار، وذلك إما بدفع مقابل لتخليصه منهم، أو بمقابلته بمأسور من الكفار، أي: على سبيل المبادلة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید