حدیث

عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَن لغيرهاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي أمامة الباهلي رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «فضل العالم على العابد كفضلي على أدناكم»، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن الله وملائكته وأهل السماوات والأرض حتى النملة في جحرها وحتى الحوت ليصلون على معلمي الناس الخير».

ترجمہ

ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے، جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر ہے“، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں اس شخص کے لیے دعائيں کرتی ہیں، جو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے“۔

تشریح

اس حدیث میں علم اور اس شرعی علوم کے حامل شخص کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جو فرض عبادات کی ادائیگی کے ساتھ حتی المقدور نوافل کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ ”عابد“ یعنی خود کو عبادت کے لیے وقف کردینے والے پر۔ ”جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی شخص پر“ یعنی عالم کا فضل و شرف، عابد کے مقابلے میں ویسا ہی ہے، جیسا رسول اللہ ﷺ کا فضل و شرف ایک ادنی صحابی کے مقابلے میں۔ ادنی صحابی رسول، مراد لینے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت آپ کےاس قول”ادناکم“ کے مخاطب صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم ہی تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:”یقینا اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور آسمانوں اور زمین میں بسنے والے“ یعنی زمین پر رہنے والے تمام انسان، جنات اور تمام حیوانات، یہاں تک کہ بلوں یعنی سوراخوں میں رہنے والی چیونٹیاں اور مچھلیاں بھی لوگوں کو خیر کی تعلیم دینے والوں کے حق میں خیر و برکت کی دعائیں کرتی ہیں۔ یہاں خیر سے مراد علم دین اور وہ چیزیں ہیں، جن سے دنیا و آخرت کی نجات وابستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے صلاۃ سے مراد، اس کے مقرب فرشتوں کے گروہ کے روبرو، بندے کی تعریف و ستائش ہے اور فرشتوں کی جانب سے صلاۃ سے مراد بندے کے حق میں استغفار ہے۔ اس شخص سے بڑھ کر کسی کا کوئی مقام نہیں ہوسکتا، جس کے حق میں روزقیامت تک فرشتے اور تمام مخلوقات، استغفار اور دعا میں مصروف ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے اجر وثواب کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔

تشریح: العربية

سيق هذا الحديث لبيان فضل العلم والعالم بالعلوم الشرعية مع القيام بفرائض العبادات وبما يتيسر له من النوافل، "على العابد"، أي: على المتفرغ للعبادة "كفضلي على أدناكم"، أي: نسبة شرف العالم إلى شرف العابد؛ كنسبة شرف الرسول صلى الله عليه وسلم إلى أدنى الصحابة شرفا ومنزلة، فإن المخاطبين بقوله: "أدناكم" الصحابة، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إن الله وملائكته وأهل السماوات والأرض"، أي: أهل الأرض من الإنس والجن وجميع الحيوانات، "حتى النملة في جحرها" أي ثقبها الذي تسكنه "وحتى الحوت ليصلون على معلمي الناس الخير"، أراد بالخير هنا علم الدين وما به النجاة في الدنيا والآخرة، والصلاة من الله تعالى ثناؤه على عبده في الملأ الأعلى، ومن الملائكة بمعنى الاستغفار، ولا رتبة فوق رتبة من تشتغل الملائكة وجميع المخلوقات بالاستغفار والدعاء له إلى يوم القيامة ولهذا كان ثوابه لا ينقطع بموته.

  • من أساليب الدعوة إلى الله الترغيب وضرب الأمثال.
  • عِظم شرف العلماء الذين تعلموا العلم وقاموا بحقه من العمل والدعوة.
  • الحث على توقير العلماء وطلاب العلم والدعاء لهم.
  • الحث على تعليم الناس الخير؛ لأنه سبب نجاتهم وسعادتهم.
  • العلماء الدعاة يقومون بوظيفة الأنبياء، وهي الدعوة إلى الله تعالى وتعليم الناس الخير، فهم ورثة الأنبياء.
  • طلب العلم الزائد عن الواجب أفضل من العبادات النافلة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید