حدیث

مالدار شخص كا (قرض كی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور اگر تم میں سے کسی کو (قرض کی وصولی کے لیے) کسی مالدار شخص کی طرف منتقل کر دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس منتقلی کو قبول کر لے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَطْلُ الغني ظلم، وإذا أُتْبِعَ أحدكم على مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مالدار شخص كا (قرض كی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور اگر تم میں سے کسی کو (قرض کی وصولی کے لیے) کسی مالدار شخص کی طرف منتقل کر دیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس منتقلی کو قبول کر لے“۔

تشریح

اس حدیث شریف میں اچھے انداز سے باہمی معاملہ کرنے کے آداب میں سے ایک ادب کی تعلیم دی گئی ہے۔ نبی ﷺ قرض دار کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ اچھے انداز میں قرض کی ادائیگی کرے اور قرض خواہ کو تلقین فرما رہے ہیں کہ وہ اچھے انداز میں قرض کا مطالبہ کرے۔ نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ قرض خواہ جب قرض کا مطالبہ کرے یا پھر اشارے کنائے یا قرینہ سے معلوم ہو کہ وہ قرض کی ادائیگی چاہ رہا ہے تو اس صورت میں اس مالدار شخص کا ٹال مٹول کرنا جو قرض کی ادائیگی کی قدرت رکھتا ہے سرا سر اس قرض خواہ کے ساتھ ظلم ہے اور بلا عذر اس کی حق کی ادائیگی میں آڑے آنا ہے۔ یہ ظلم اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب قرض دار، اپنے قرض خواہ کو کسی ایسے مال دار آدمی کی طرف منتقل کر دے جس سے اپنا حق وصول کرنا اس کے لیے آسان ہو۔ اس صورت میں قرض خواہ کو چاہیے کہ وہ اس منتقلی کو قبول کر لے۔ یہ اس کی طرف سے حسن تقاضا ہے اور اس میں قرض کی ادائیگی میں بھی آسانی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس سے وہ ظلم بھی دور ہو رہا ہے جو ٹال مٹول کرنے والے قرض دار کے ذمہ قرض باقی رہنے کی وجہ سے ہوتا۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث الشريف أدب من آداب المعاملة الحسنة. فهو صلى الله عليه وسلم يأمر المدين بحسن القضاء، كما يرشد الغريم إلى حسن المطالبة. فبين صلى الله عليه وسلم أن الغريم إذا طلب حقه، أو فهم منه الطلب بإشارة أو قرينة، فإن تأخير حقه عند الغني القادر على الوفاء، ظلم له، أنه دون حقه بلا عذر. وهذا الظلم يزول إذا أحال المدين الغريم على مليء يسهل عليه أخذ حقه منه، فَلْيَقْبَل الغريم الحوالة حينئذ. ففي هذا حسن الاقتضاء منه، وتسهيل الوفاء، كما أن فيه إزالة الظلم بما لو بقي الدين بذمة المدين المماطل.

  • تحريم مطل الغنىّ، ووجوب وفاء الدين الذي عليه لغريمه.
  • التحريم خاص بالغني المتمكن من الأداء، أما الفقير، أو العاجز لشيء من الموانع، فهو معذور.
  • تحريم مطالبة المعسر، ووجوب إنظاره إلى الميسرة؛ لأن تحريم المطل ووجوب الوفاء متعلقان بالغنى القادر، أما المعسر فيحرم التضييق عليه؛ لأنه معذور، و ملاحقته بالدين حرام.
  • في الحديث حسن القضاء من المدين، بأن لا يماطل الغريم، وفيه حسن الاقتضاء من الغريم بأن يقبل الحوالة إذا أحاله المدين على مليء.
  • ظاهر الحديث أنه إذا أحال المدين الغريم على مليء، وجب عليه قبول الحوالة.
  • مفهومه أنه لا يجب على المحال قبول الحوالة إذا أحاله على غير مليء.
  • فسر العلماء "المليء" بأنه ما اجتمع فيه ثلاث صفات:(1) أن يكون قادراً على الوفاء، فليس بفقير. (2) صادقا بوعده، فليس بمماطل. (3) يمكن جلبه إلى مجلس الحكم، فلا يكون صاحب جاه، أو يكون أباً للمحال، فلا يسمح القاضي له بمرافعته.
  • قال العلماء: إن مناسبة الجمع بين هاتين الجملتين أنه لما كان المطل ظلماً من المدين، طلب من الغريم إزالة هذا الظلم بقبول الحوالة على من لا يلحقه منه ضرر وهو المليء.
  • ظاهر الحديث، انتقال الديْن من ذمة المحيل إلى ذمة المحال عليه.
  • الإرشاد إلى ترك الأسباب القاطعة لاجتماع القلوب، لأن ذلك هو الحكمة في الزجر عن المماطلة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید