ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يَتَعَوَّذُ مِنَ الجَانِّ، وعَيْنِ الإنسان، حتى نَزَلَتْ المُعَوِّذتان، فلمَّا نَزَلَتا، أخذ بهما وتركَ ما سواهما.
ترجمہ
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ، جنوں اور انسانوں کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہاں تک کہ معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) نازل ہوئیں۔ جب یہ سورتیں نازل ہو گئیں، تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو اختیار کر لیا اور ان کے علاوہ دوسری چیزوں کے ذریعہ سے پناہ مانگنا چھوڑ دیا۔
تشریح
اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ دعاؤں اور ذکر و اذکار کا اہتمام کرتے ہوئے جنات کی شرانگیزیوں اور انسانوں کی حاسدانہ نظروں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب فرماتے تھے اور یوں فرمایا کرتے تھے کہ: میں جنات اور انسانوں کی نظر بد سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں، تا آں کہ معوذتین کا نزول ہوگیا۔ جب یہ نازل ہو گئیں، تو آپ ﷺ پناہ طلب کرنے میں بیش تر انھیں کو اختیار فرما لیا اور ان کے علاوہ دیگر تمام تعاویذ اور جھاڑ پھونک کے طور پر پڑھی جانے والی دعاؤں اور اذکار کو چھوڑ دیا؛ کیوں کہ ان سورتوں میں ان تمام دعاؤں اور اذکار کو شامل کردیا گیاہے، جن کے ذریعے پناہ طلب کی جاسکتی ہے اور جن سے پناہ طلب کرنا ہوتا ہے۔
تشریح: العربية
يفيد الحديث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعتصم بالله تعالى من شر الجان وعين الإنسان الحاسد، عن طريق الأدعية والأذكار، بأن يقول: أعوذ بالله من الجان وعين الإنسان، حتى نزلت المعوذتان، فلما نزلتا أخذ بهما في التعوذ غالبًا، وترك ما سواهما من التعاويذ والرقيات؛ لاشتمالهما على الجوامع في المستعاذ به، والمستعاذ منه.
- جواز التعوذ من الجان والعين بكل دعاء مشروع.
- تحصن العبد بالمعوذتين، وأنهما تغنيان عما سواهما من الرقى.
- إثبات أن العين حق.
- فضل المُعَوِّذَتَين لاشتمالهما على الجوامع في المستعاذ به، والمستعاذ منه.
- العين سبب في حصول الضرر كالمرض بإذن الله -تعالى-، ولا تعارض بين تشخيص الأطباء لمرض ما بكونه التهابًا أو ورمًا أو غير ذلك وبين كون ذلك المرض سببه العين، فالوصف بالالتهاب والأورام تشخيص لحالة المريض والعين سبب لذلك المرض، ولذلك يكون العلاج من الأمرين: بالرقية الشرعية وأخذ شيء من أثر العائن وبالأدوية الطبية.