حدیث

نبی ﷺ ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ ‌أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ ‌ابْنُ الزُّبَيْرِ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ حِينَ يُسَلِّمُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، ‌وَلَا ‌نَعْبُدُ ‌إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» وَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ».

ترجمہ

ابو الزبیر کہتے ہيں : عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہر نماز کے وقت سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا پڑھتے : ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ وَلَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ“ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قدرت صرف اللہ کی توفیق سے ملتی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں، ہر نعمت کا مالک وہی ہے اور سارا فضل اسی کی ملکیت ہے اور اسی کے لیے بہترين تعريف ہے۔ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، ہم خالص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں، اگرچہ کافر ناپسند کریں۔) وہ فرماتے: نبی ﷺ ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر فرض نماز سے سلام پھیرنے کے بعد اس عظیم ذکر کے ذریعے اللہ کی پاکی بیان کرتے تھے، جس کے معنی ہیں: "لا إله إلا الله" : اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ہے۔ "وحده لا شريك له" : وہ اکیلا ہے اور الوہیت، ربوبیت اور اسما و صفات میں اس کا کوئی شریک نہيں ہے۔ "له الملك" : اسی کے لیے مطلق، عام، ہمہ گیر اور وسیع بادشاہت ہے۔ آسمانوں، زمین اور ان کے بیچ کی ساری چیزوں کی بادشاہت۔ "وله الحمد" : وہ کمال مطلق کے وصف سے متصف ہے۔ اس کا کمال‘ محبت اور تعظیم کے ساتھ ہر حال میں بیان کیا جائے گا۔ خوشی میں بھی اور غمی میں بھی۔ "وهو على كل شيء قدير" : اس کی قدرت ہر اعتبار سے مکمل اور تام ہے۔ اسے کوئی بے بس نہیں کر سکتا۔ ایسا کوئی کام نہيں، جو وہ نہ کر سکے۔ "لا حول ولا قوة إلا بالله" : ایک حالت سے دوسری حالت میں جانے اور اللہ کی نافرمانی کی راہ کو چھوڑ کر اس کی فرماں برداری کی راہ اپنانے کی طاقت اللہ کی توفیق کے بغیر کسی کے پاس نہيں ہے۔ وہی اصل مددگار ہے اور اسی پر سارا بھروسہ ہے۔ "لا إله إلا الله، ولا نعبد إلا إياه" : اس بات کی تاکید کہ بس اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہيں ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ "له النعمة وله الفضل" : وہی نعمتیں پیدا کرتا ہے اور وہی نعمتوں کا مالک ہے۔ وہ اپنے جس بندے کو چاہتا ہے اپنے فضل و کرم سے نعمتیں عطا کرتا ہے۔ "وله الثناء الحسن" : اسی کی اچھی تعریف ہے ہر حال میں، اس کی ذات، صفات، افعال اور نعمتوں پر۔ "لا إله إلا الله، مخلصين له الدين" ہم خالص طور پر اسی کی عبادت کرتے ہيں۔ اللہ کی عبادت کو ریا اور شہرت طلبی کی آلائشوں سے پاک رکھتے ہيں۔ "ولو كره الكافرون": ہم اللہ کو ایک ماننے اور اس کی عبادت کرنے کی روش پر ثابت قدم رہيں گے، چاہے کافروں کو برا ہی کیوں نہ لگے۔

فوائد

  • ہر فرض نماز کے بعد اس ذکر کی پابندی کرنا مستحب ہے۔
  • ایک مسلمان اپنے دین پر فخر کرتا اور اس کے شعائر کا بر ملا اظہار کرتا ہے، چاہے کافروں کو برا ہی کیوں نہ لگے۔
  • جب حدیث کے اندر "دُبر الصلاة" (نماز کے بعد) کے الفاظ آئيں اور حدیث میں جس چیز کا ذکر ہوا ہو وہ ذکر ہو، تو اصلا اس سے مراد سلام پھیرنے کے بعد ہوگا۔ لیکن اگر وہ دعا ہو، تو مراد سلام پسے پہلے ہوگا۔
تشریح: العربية

كان رسولُ الله صلى الله عليه وسلم يُهلِّلُ بعد تسليمِه من كلِّ صلاةٍ مكتوبةٍ بهذا الذكر العظيم، ومعناه: "لا إله إلا الله": يعني لا معبود بحق إلا الله. "وحده لا شريك له" أي: إنه لا مشارك له في ألوهيته وربوبيته وأسمائه وصفاته. "له الملك" أي: له الملك المُطْلَق العام الشامل الواسع، ملك السموات والأرض وما بينهما. "وله الحمد" أي: هو المُتصف بالكمال المطلق، المحمود بالكمال محبةً وتعظيمًا على كل حال، في السراء، وفي الضراء. "وهو على كل شيء قدير": فقُدرته كاملة وتامَّة من كل وجهٍ، لا يُعجزه شيءٌ، ولا يمتنع عليه أمرٌ من الأمور. "لا حول ولا قوة إلا بالله" أي: لا تَحَوُّل من حالٍ إلى حال، ومن معصية الله إلى طاعته، ولا قوة إلا بالله فهو المعين وعليه التُّكْلان. "لا إله إلا الله، ولا نعبد إلا إياه": تأكيد على معنى الألوهية ونفي الشرك، وأنه لا يستحق العبادة سواه. "له النعمة وله الفضل": فهو الذي يخلق النِّعَم ويملكها، ويتفضَّل بها على من يشاء من عباده. "وله الثناء الحسن": على ذاته وصفاته وأفعاله ونعمه، وعلى كل حال. "لا إله إلا الله، مخلصين له الدين": أي موحِّدين لا رياء ولا سمعة في طاعة الله. "ولو كره الكافرون"، أي: ثابتين على توحيد الله وعبادته ولو كره الكافرون.

  • استحباب المحافظة على هذا الذكر بعد كل صلاة مكتوبة.
  • المسلم يَعْتَزُّ بدينِهِ ويُظْهِرُ شعائرَه، ولو كره الكافرون.
  • إذا وَرَدَتْ في الحديث كلمةُ: "دُبر الصلاة"، فإن كان ما في الحديث ذِكْرًا فالأصل أن يكون بعد السلام، وإن كان دعاءً فيكون قبل السلام من الصلاة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید