حدیث

اگر مجھے پائے یا دست (کھانے) کی دعوت دی جائے تو میں یقیناً قبول کروں گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «لو دُعِيتُ إلى كُرَاعٍ أو ذِرَاعٍ لأَجَبتُ، ولو أُهدِيَ إليّ ذِرَاعٌ أو كُرَاعٌ لقَبِلتُ».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے پائے یا دست (کے گوشت کھانے کی) کی دعوت دی جائے تو میں یقیناً قبول کروں گا اور اگر مجھے دست یا پایا بطورِ تحفہ بھیجاجائے تو میں اسے ضرور قبول کروں گا“۔

تشریح

اس حدیث میں نبی ﷺ کے حسن خلق، آپ کی تواضع و خاکساری اور اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کی دل جوئی کرتے تھے، اوریہ کہ معمولی تحفہ بھی قبول کرنا چاہیے، نیز جو کسی آدمی کو اپنے گھر دعوت دے اسے قبول کرنا چاہیےاگرچہ یہ معلوم ہو کہ وہ معمولی چیز کے لیےدعوت دے رہا ہے۔ کیونکہ ہدیہ اور دعوت قبول کرنے کا مقصد دعوت دینے والے کی دل جوئی کرنا اور باہمی محبت کو مضبوط کرنا ہے، جبکہ دعوت رد کردینے اور اسے قبول نہ کرنے سے نفرت و عداوت جنم لیتی۔ آپ ﷺ نے خاص طور پر دست اور پائے کا اس لیے ذکر کیا ہےتاکہ معمولی اور اہم دونوں چیزیں یکجا کردیں؛ کیونکہ دست کا گوشت آپ ﷺ کو زیادہ پسند تھا، جبکہ پائے کی کوئی قیمت نہیں ہے۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث دليل على حسن خلقه صلى الله عليه وسلم وتواضعه وجبره لقلوب الناس، وعلى قبول الهدية وإن كانت قليلة، وإجابة من يدعو الرجل إلى منزله ولو علم أن الذي يدعوه إليه قليل؛ لأن القصد من قبول الهدية وإجابة الدعوة تأليف الداعي وإحكام التحابب، وبالرد وعدم الموافقة يحدث النفور والعداوة . وخص الذراع والكراع بالذكر ليجمع بين الحقير والخطير؛ لأن الذراع كانت أحب إليه –صلى الله عليه وسلم- من غيرها، والكراع لا قيمة له.

  • إجابة الدعوة ولو إلى شيء يسير من الطعام.
  • شدة تواضعه –صلى الله عليه وسلم- وجبره لقلوب الناس.
  • قبول الهدية مهما قلّت، لما في ذلك من تأليف القلوب والمحبة بين المسلمين.
  • الحث على تعاطي ما يبعث التآلف، ويغرس الوداد.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید