حدیث

اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی پسندیدگی سے نہیں سنتا، جتنی خوش الحان نبی کی زبان سے قرآن سنتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما أذنَ الله لشيء ما أَذِنَ لنبي حسن الصوت يَتَغَنَّى بالقرآن يجهر به».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی پسندیدگی سے نہیں سنتا، جتنی خوش الحان نبی کی زبان سے قرآن سنتا ہے، جو اسے خوش الحانی کے ساتھ بلند آواز سے پڑھتا ہو“۔

تشریح

اس حدیث میں نماز وغیرہ میں قرآن مجید کی تلاوت کے موقع پر اچھی آواز سے تلاوت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے؛ اس طور پر کہ قرآن مجید کو بلند آواز سے، خوب دل نشین انداز میں، ترنم کے ساتھ، رقت آمیز انداز میں، دیگر ماضی کے واقعات سے بے نیازی اختیار کرتے ہوئے، اسی کے ذریعے نفس کی بے نیازی طلب کرتے ہوئے اور دنیاداروں کی مال داری سے بے نیازی کا امیدوار ہوکر اسے پڑھے۔ حدیث میں مذکور تغنی (سر آمیزی) سے مقصود دل کش و دل نشین انداز میں پڑھنا ہے، موسیقانہ نغموں کے آہنگوں کے مطابق پڑھنا نہیں۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث الحث على تحسين الصوت عند قراءة القرآن في الصلاة وغيرها، بحيث أنه يحسّن به صوته جاهرًا به، مترنمًا على طريق التحزن، مستغنيًا به عن غيره من الأخبار، طالبًا به غنى النفس، راجيًا به غنى اليد، والمقصود بالتغني في الحديث هو التحسين وليس جعله مثل إيقاعات الأغاني الموسيقية.

  • استحباب تحسين الصوت بالقراءة القرآن وترتيلها، وهو متفق عليه.
  • يعطي الله سبحانه الأجر العظيم على حسن الصوت في تلاوة القرآن.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید