حدیث

اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم قال: "ما بَعَثَ اللهُ نبياً إلا رَعَى الغَنَمَ"، فقالَ أصحابُهُ: وأنتَ؟، قال: "نعم، كُنتُ أرعَاها على قَرَارِيطَ لأهلِ مكةَ".

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں“۔ اس پر آپ ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے پوچھا کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ فرمایا کہ ہاں! کبھی میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کے عوض چَرایا کرتا تھا۔

تشریح

تمام انبیاء نے اپنی زندگی میں بکریاں چرائی ہیں۔ ظاہرِ حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے نبوت سے پہلے بکریاں چَرائی ہیں۔ اس کی حکمت کے بارے میں علماء نے فرماتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہے تاکہ اُن نبیوں کو لوگوں کی نگرانی کرنے اور ان کو نیکی کی طرف متوجہ کرنے کی مشق ہو۔ کیونکہ بکریوں کا چرواہا کبھی ان کو چراگاہ کی طرف لے جاتا ہے اور کبھی ایسے ہی چھوڑ دیتا ہے اور کبھی گھاٹ میں پانی پلانے لے جاتا ہے۔ نبی بھی اپنی امت کی رہنمائی کرتا ہے اور انہیں علم، ہدایت اور بصیرت ے عبارت خیر کی طرف متوجہ کرتا ہے اس چرواہے کی طرح جسے اچھی چراگاہ کے بارے میں علم ہوتا ہے اور اسے اس چیز کا بھی علم ہوتا ہے جس میں بکریوں کے لیے بہتری اور ان کے کھانے پینے کا سامان ہوتا ہے۔ اس کام کے لیے بکریوں کو اس لیے چُنا گیا کہ بکری والے سکون، ٹھہراؤ اور اطمینان کے ساتھ متصف ہوتے ہیں برخلاف اونٹوں کے، اس لیے کہ اونٹوں والوں میں اکثر سختی اور شدت پائی جاتی ہے۔اس لیے کہ بذاتِ خود اونٹوں میں بھی سختی پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بکریاں چرانے کے لیے چُنا تاکہ ان میں ان کی عادت آ جائے اور لوگوں کی رہنمائی کرنے کی مشق ہو۔

تشریح: العربية

كل الأنبياء رعوا الغنم في حياتهم، وظاهر الحديث أن ذلك قبل النبوة، لذلك قال العلماء: الحكمة من ذلك أن يتمرن الإنسان على رعاية الخلق وتوجيههم إلى ما فيه الصلاح؛ لأن الراعي للغنم تارة يوجهها للمرعى وتارة يبقيها واقفة وتارة يردها إلى المراح، فالنبي -عليه الصلاة والسلام- سيرعى الأمة ويوجهها إلى الخير عن علم وهدى وبصيرة كالراعي الذي عنده علم بالمراعي الحسنة، وعنده نصح وتوجيه للغنم إلى ما فيه خيرها، وما فيه غذاؤها وسقاؤها. واختيرت الغنم لأن صاحب الغنم متصف بالسكينة والهدوء والاطمئنان بخلاف الإبل، فإن أصحابها في الغالب عندهم شدة وغلظة، لأن الإبل كذلك فيها الشدة والغلظة، فلهذا اختار الله سبحانه وتعالى لرسله أن يرعوا الغنم حتى يتعودوا ويتمرنوا على رعاية الخلق.

  • تواضع الأنبياء -عليهم الصلاة والسلام- باشتغالهم بأبسط الحِرَف.
  • يستحب للعبد أن يتكسب ويطلب الرزق وإن قل، ففيه البركة لمن قنع، ويجب أن يتحرى في ذلك أن يكون حلالًا.
  • الحكمة من رعي الأنبياء الغنم؛ ليتمرنوا بذلك على سياسة الأمم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید