حدیث

نبی كريم ﷺ اپنے گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت ميں لگے رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے ليے تشريف لے جاتے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن الأسود بن يزيد، قال: سُئِلَتْ عائشةُ رضي الله عنها ما كانَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ في بَيتِهِ؟، قالَتْ: كانَ يَكونُ في مِهنَةِ أهلِهِ -يَعني: خِدمَة أهلِهِ- فإذا حَضَرَتِ الصلاةُ، خَرَجَ إلى الصلاةِ.

ترجمہ

اسود بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: نبی كريم ﷺ اپنے گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت ميں لگے رہتے تھے، اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے ليے تشريف لے جاتے۔

تشریح

نبی کريم ﷺ کے تواضع و خاکساری کی ایک جھلک یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ اپنے گھر میں اہلِ خانہ کی خدمت کرتے تھے، بکری کا دودھ نکالتے، جوتی ٹھیک کرتے، گھر میں گھر والوں کی خدمت کرتے۔ کیوں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ نبی کريم ﷺ اپنے گھر ميں کيا کام کرتے تھے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمايا کہ آپ ﷺ اپنے گھر والوں کی خدمت ميں لگے رہتے تھے۔ یہ انبیاء اور مرسلین کے اخلاق میں سے ہے کہ وہ اپنے اعمال میں تواضع و خاکساری اختیار کرتے تھے، آسائش پسندی اور ناز ونعمت کی زندگی گزارنے سے دور رہتے تھے۔

تشریح: العربية

من تواضع النبي -عليه الصلاة والسلام- أنه كان في بيته في خدمة أهله، يحلب الشاة يصلح النعل، يخدمهم في بيتهم، لأن عائشة سئلت ماذا كان النبي صلى الله عليه وسلم يصنع في بيته؟، قالت: كان في مهنة أهله يعني في خدمتهم -عليه الصلاة والسلام-، وهذا من أخلاق النبيين والمرسلين عليهم السلام التواضع والتذلل في أفعالهم، والبعد عن الترفه والتنعم.

  • كمال تواضعه –صلى الله عليه وسلم- وبره بأهله.
  • الأعمال الدنيوية ينبغي أن لا تلهي العبد عن الصلاة.
  • محافظة النبي –صلى الله عليه وسلم- على الصلاة في أول أوقاتها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید