حدیث

”جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے، پھر اچھی طرح وضو کرے، دل لگا کر نماز پڑھے اور اچھی طرح رکوع (اور سجدہ) کرے، تو یہ نماز اس کے ما قبل کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی، جب تک کبیرہ گناہ نہ کرے اور ہمیشہ ایسا ہی ہوا کرے گا۔“

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ عُثْمَانَ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ، مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً، وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ».

ترجمہ

عثمان رضي الله عنه سے مروی ہے کہ میں نے رسو ل اللہﷺ کو بیان کرتے ہوئے سنا : ”جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے، پھر اچھی طرح وضو کرے، دل لگا کر نماز پڑھے اور اچھی طرح رکوع (اور سجدہ) کرے، تو یہ نماز اس کے ما قبل کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گی، جب تک کبیرہ گناہ نہ کرے اور ہمیشہ ایسا ہی ہوا کرے گا۔“

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس مسلمان کے سامنے فرض نماز کا وقت آجائے، چنانچہ وہ اچھی طرح اور مکمل طریقے سے وضو کرے، پھر خشوع و خضوع کے ساتھ اس طرح نماز پڑھے کہ اس کا دل اور اس کے جسم کے اعضا اللہ کی جانب متوجہ ہوں اور وہ عظمت الہی کو اپنے ذہن ودل میں حاضر رکھے اور نماز کے افعال جیسے رکوع اور سجدہ وغیرہ پورے طور پر کرے، تو یہ نماز پہلے کے چھوٹے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے‘ بشرطیکہ کوئی کبیرہ گناہ نہ کرے۔ یاد رہے کہ یہ فضیلت ہر زمانے اور ہر نماز کے لیے عام ہے۔

فوائد

  • گناہوں کا کفارہ وہ نماز بنتی ہے، جس کے لیے بندہ اچھی طرح وضو کرے اور جسے اللہ کی خوش نودی کے حصول کے لیے پورے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرے۔
  • پابندی سے عبادت کرنے کی فضیلت۔ اس طرح کی عبادت چھوٹے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔
  • اچھی طرح وضو کرنے اور اچھی طرح نماز پڑھنے اور خشوع و خضوع اختیار کرنے کی فضیلت۔
  • صغیرہ گناہوں سے مغفرت کے لیے کبیرہ گناہوں سے اجتناب کی اہمیت۔
  • کبیرہ گناہوں کی بخشش کے لیے توبہ ضروری ہے۔
تشریح: العربية

بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّه ما مِن مُسلم يَدخل عليه وقت الصلاة المفروضة فيحسن وضوءها ويُتِمُّه، ثم يَخشع في صلاته بحيث يكون قلبُه وجوارحُه كلُّها مُقبلةً على الله مستحضرةً عظمتَه، ويُتم أفعالَ الصلاةِ كالركوعِ والسجود وغيرِهِ، إلا كانت هذه الصلاةُ مُكفِّرَةً لما قبلها من المعاصي الصغائر، ما لم يعمل كبيرة من كبائر الذنوب، وهذا الفضل مُمْتَدٌّ على مَرِّ الزمان وفي كل صلاة.

  • الصلاة المكفرة للذنوب هي التي أحسن العبد وضوءَها، وأدَّاها خاشعًا يبتغي بها وجه الله تعالى.
  • فضل المداومة على العبادات، وأنها سبب لمغفرة صغائر الذنوب.
  • فضل إحسان الوضوء، وإحسان الصلاة والخشوع فيها.
  • أهمية اجتناب كبائر الذنوب لمغفرة الذنوب الصغائر.
  • كبائر الذنوب لا تُكَفَّر إلا بالتوبة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید