حدیث

لوگوں کے لیے زندگی کے بہترین طریقوں میں سے یہ ہے کہ آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے گھوڑے کی لگام پکڑ رکھی ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم أنه قالَ: "مِن خَيرِ مَعَاشِ النّاسِ لهم رَجُلٌ مُمْسِكٌ عِنَانَ فَرسِهِ في سبيلِ اللهِ، يَطيرُ على مَتنِهِ كُلَّما سَمِعَ هَيْعَةً أو فَزعَةً، طَارَ عَليه يَبْتَغِي القَتْلَ، أو المَوتَ مَظانَّه، أو رَجلٌ في غُنَيمَةٍ في رأسِ شَعفَةٍ من هذه الشَّعَفِ، أو بطنِ وادٍ من هذه الأوديةِ، يُقيمُ الصلاةَ، ويُؤتِي الزكاةَ، ويَعبدُ ربَّهُ حتى يَأتِيَه اليقينُ، ليسَ من النَّاسِ إلا في خيرٍ".

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کے لیے زندگی کے بہترین طریقوں میں سے یہ ہے کہ آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے گھوڑے کی لگام تھامے رکھے، اس کی پیٹھ پر (بیٹھ کر) اللہ کی راہ میں اڑتا (تیزی سے حرکت کرتا) پھرے، جب بھی (دشمن کی) آہٹ یا (کسی کے) ڈرنے کی آواز سنے، اڑ کر وہاں پہنچ جائے، ہر اس جگہ قتل اور موت کو تلاش کرتا ہو، جہاں اس کے ہونے کا گمان ہو۔ یا پھر وہ آدمی جو بکریوں کے چھوٹے سے ریوڑ کے ساتھ ان چوٹیوں میں سے کسی ایک چوٹی پر یا ان وادیوں میں سے کسی وادی میں ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکاۃ دیتا ہو اور اپنے رب کی عبادت میں لگا ہوا ہو، یہاں تک کہ موت آ جا‎ۓ۔ وہ اچھائی کے معاملات کے سوا لوگوں سے کوئی تعلق نہ رکھتا ہو۔

تشریح

حدیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ زندگی گزارنےکی سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ بندے نے گھوڑے کی لگام تھام رکھی ہو۔ (یعنی ہروقت راہ جہاد میں نکلنے کے لیے تیار رہتاہو۔) آپ ﷺ کا فرمان: ”اس کی پیٹھ پر (بیٹھ کر) اللہ کی راہ میں اڑتا (تیزی سے حرکت کرتا) پھرے، جب بھی (دشمن کی) آہٹ یا (کسی کے) ڈرنے کی آواز سنے، اڑ کر وہاں پہنچ جائے، ہر اس جگہ قتل اور موت کو تلاش کرتا ہو“ یعنی جب بھی اسے (دشمن کی) کوئی آہٹ سنائی دے یا دشمن کی طرف بڑھنے کی آواز سنائی دے تو وہ شوق شہادت میں جلدی سے گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کر ان جگہوں اور مقامات پر قتل ہونے کی تمنا لئے ہوۓ چل دے، جہاں پر قتل ہونے کا گمان ہو۔ اس حدیث میں اس بات کی بھی دلیل ہے گوشہ نشینی بہت اچھی بات ہے اور جو شخص لوگوں سے الگ تھلگ کسی وادی یا گھاٹی میں اللہ کی عبادت کررہا ہو اور وہ لوگوں سے صرف اچھائی ہی کا تعلق رکھتا اس شخص میں خیر ہی خیر ہے۔

تشریح: العربية

في الحديث بيان أن من خير أحوال عيش الناس رجل ممسك عنان فرسه، وقوله -صلى الله عليه و سلم-: "يطير على متنه كلما سمع هيعة أو فزعة طار على متنه يبتغي القتل والموت مظانه"، معناه :يسارع على ظهره وهو متنه، كلما سمع هيعة وهى الصوت عند حضور العدو، والفزعة وهي النهوض إلى العدو، يبتغي القتل مظانه يطلبه في مواطنه التي يرجى فيها؛ لشدة رغبته في الشهادة. وفيه أيضاً دليل على أن العزلة خير ومن كان في مكان من الأودية والشعاب منعزلاً عن الناس، يعبد الله عز وجل ليس من الناس إلا في خير فهذا فيه خير.

  • فضل الجهاد والاستعداد له وترقبه، وتحديث النفس به طلباً للشهادة في سبيل الله -تعالى-.
  • فضيلة اعتزال الناس عند وقوع الفتنة.
  • من خالط الناس ينبغي أن يسلم المسلمون من لسانه ويده.
  • جواز التكسب الحلال برعي الأغنام بعيداً عن الناس.
  • العزلة بسبب الفتن، ينبغي أن لا تحول بين العبد والقيام بالأحكام الشرعية على وجهها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید