حدیث

جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي الدرداء رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ سَلَكَ طَريقا يَبْتَغي فيه عِلْما سَهَّل الله له طريقا إلى الجنة، وإنَّ الملائكةَ لَتَضَعُ أجْنِحَتها لطالب العلم رضًا بما يَصنَع، وإنَ العالم لَيَسْتَغْفِرُ له مَنْ في السماوات ومَنْ في الأرض حتى الحيتَانُ في الماء، وفضْلُ العالم على العَابِدِ كَفَضْلِ القمر على سائِرِ الكواكب، وإنَّ العلماء وَرَثَة الأنبياء، وإنَّ الأنبياء لم يَوَرِّثُوا دينارا ولا دِرْهَماً وإنما وَرَّثُوا العلم، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بحَظٍّ وَافِرٍ».

ترجمہ

ابوالدرداء رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:”جو شخص علم کی تلاش میں کسی راہ پر چل پڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان فرما دیتا ہے۔ بے شک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ اور یقینا عالم کے لیے آسمانوں و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں، یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی۔ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے، جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر۔ بے شک علما، انبیا کے وارث ہیں اور انبیا نے کسی کو دینار اور درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انھوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لیے جس نے یہ علم حاصل کر لیا، اس نے (علم نبوی اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا“۔

تشریح

طلب علم کے بعض فضائل کی توضیح و تشریح کے ضمن میں یہ حدیث وارد ہوئی ہے: ان فضائل میں سب سے پہلی فضیلت یہ ہے کہ جو شخص کسی راہ پر نکل پڑے اوراس راہ پر نکلنے کا مقصد محض طلب علم یا علم کی تحقیق ہو؛ چاہے وہ طالب علم گھر ہی میں کیوں نہ ہو، اللہ سبحانہ وتعالیٰ اسے طلب علم کا بدلہ عنایت فرمائے گا۔ یعنی اس کے لیے جنت کی راہ آسان کردے گا۔ علمی راہ اپنانے میں جس طرح حسی راستہ شامل ہے، جس میں انسان اپنے قدموں کے ذریعے چل کر جاتا ہے، اسی طرح اس میں معنوی راستہ بھی شامل ہے۔ مثلا انسان علما کی مجالس اور کتابی ذخیروں سے علم حاصل کرے۔ کیوں کہ جو شخص کسی شرعی مسئلے کا حکم جاننے کی غرض سے کتابوں کی تحقیق و مراجعہ کرتا ہے یا کسی شیخ کی مجلس میں بیٹھ کر اس سے استفادہ کرتا ہے،وہ بھی طلب علم کی راہ طے کر رہا ہوتا ہے، گرچہ وہ بیٹھا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔ اس حدیث میں مذکور فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین کی ساری مخلوقات یہاں تک کہ سمندر میں موجود مچھلیاں اورخشکی میں پائے جانے والے چوپائے بھی ان علما کے حق میں مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔ طلب علم کے فضائل میں یہ بھی ہے کہ اللہ عز وجل کی مکرم ومعزز مخلوق فرشتے بھی طالب علم کو علمی مشاغل میں مصروف دیکھتے ہوئے خوشی سے علم اور اہل علم کے روبرو اپنی فروتنی اور ان کی عظمت کے اعتراف میں اپنے پنکھ بچھا دیتے ہیں۔ اس حدیث میں نبی ﷺ کے ذکرکردہ فضائل میں سے یہ بھی ہے کہ علما، انبیا کے وارث و جانشین ہوتے ہیں۔ یہ اس طرح سے کہ انھیں انبیا سے علم اور عمل کی دولت وراثت میں حاصل ہوئی۔ نیز دعوت الی اللہ اور انسانوں کی اللہ اور اس کے دین کی طرف رہ نمائی کا فریضہ بھی انھیں وراثت میں ملا ہے۔ اس میں یہ فضیلت بھی بیان کی گئی ہے کہ عابد پر عالم دین کو ایسے ہی امتیاز و برتری حاصل ہے، جیسے رات کے وقت کامل چاند کو دیگر سارے ستاروں پر حاصل ہوتی ہے؛ کیوں کہ عبادت کا نوراور اس کا کمال محض عابد تک محدود رہتا ہے، جس میں عابد کے علاوہ کوئی دوسرا شریک نہیں ہوسکتا اور اس نور کی حیثیت محض کسی ستارے جیسی ہے۔ جب کہ علم کانور اور اس کا کمال یہ ہے کہ وہ عالم کے علاوہ دیگر انسانوں کو بھی مستفید ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس بات کا بھی ذکر فرمایا کہ انبیا نے اپنے جانشینوں کے لیے دنیا کی کوئی بھی چیز وراثت میں نہ رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے دنیا میں درہم و دینار کی بجائے علم جیسی انتہائی عظیم میراث باقی رکھی۔ لہٰذا جس شخص نے اس علمی ورثے کو لے لیا، تو حقیقتا اس نے بھرپور انداز میں انبیا کی میراث پائی اور یہی حقیقی اور نفع بخش میراث ہے۔ یہاں مسلمان کو اس غلط فہمی میں نہ رہنا چاہیے کہ فضیلت یافتہ عالم کی زندگی عمل سے اور عابد کی زندگی علم سے خالی ہو سکتی ہے؛ بلکہ اگر عابد کا دامن علم سے بھر جائے، تو وہ اپنے عمل میں قوی ہوجائے گا اور اگر عالم اپنے علم پر عمل پیرا ہوجائے، تو وہ اپنے علم میں قوی ہوگا۔ اسی بنا پر انہی علما کو انبیا کا وارث قرار دیا گیا، جو علم اور عمل کی اعلی خوبیوں کے حامل ہوں گے اور کمال (علم) اور تکمیل (اس کے مطابق عمل) کی فضیلتوں کو حرز جاں بنائے ہوئے ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والوں اور اس کی راہ کے راہ گیروں کا یہی طریقہ و منہج رہا ہے۔

تشریح: العربية

جاء هذا الحديث ليوضح بعض فضائل طلب العلم: فمنها أن من مشى في طريق يريد بسيره فيه الذهاب لطلب العلم أو بحث عن العلم ولو في بيته جازاه الله سبحانه بأن يسهل له طريقاً إلى الجنة، وسلوكُ طريق العلم يشمل الطريق الحسي الذي يمشي فيه الإنسان برجله، كما يشمل الطريق المعنوي، بأن يلتمس العلم من مجالسة العلماء، ومن بطون الكتب، وذلك أن الذي يراجع الكتب للعثور على حكم مسألة شرعية، أو يجلس إلى شيخ يتعلم منه، فإنه قد سلك طريقًا يلتمس فيه علمًا ولو كان جالسًا. ومن الفضائل المذكورة في هذا الحديث أن العلماء يستغفر لهم أهل السماء والأرض، حتى الحيتان في البحر، وحتى الدواب في البر. ومن فضائله أن الملائكة الذين كرمهم الله عز وجل تضع أجنحتها لطالب العلم رضا بما يصنع، تواضعًا وتعظيمًا للعلم وأهله. ومن الفضائل التي ذكرها النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث أن العلماء ورثة الأنبياء، حيث ورثوا منهم العلم والعمل، وورثوا الدعوة إلى الله عز وجل وهداية الخلق ودلالتهم على الله تعالى وعلى دينه. ومن فضائله أن مزية العالم على العابد كمزية القمر ليلة البدر على بقية الكواكب؛ لأن نور العبادة وكمالها ملازم للعابد لا يتخطاه، فهو كنور الكواكب، أما نور العلم وكماله فهو يتعدى إلى الغير فيستضيء به غير العالم. وذكر -عليه الصلاة والسلام- أن الأنبياء لم يورثوا لمن بعدهم الدنيا، فلم يورثوا درهمًا ولا دينارًا، وأن أعظم ميراث تركوه هو العلم، فمن أخذه أخذ بنصيب وافر كثير، وهو الإرث الحقيقي النافع. ولا يظن المسلم أنَّ العالم المفضَّل عارٍ عن العمل، ولا العابد عن العِلم، بل إن علم ذاك غالب على عمله، وعمل هذا غالب على علمه، ولذلك جعل العلماء ورثة الأنبياء الذين فازوا بالحسنيين، العلم والعَمل وحازوا الفضيلتين، الكمال، والتكميل، وهذه طريقة العارفين بالله وسبيل السائرين إلى الله تعالى .

  • فضل العلم، وأنه نور يضيء للناس طريق الخير والحق.
  • الحث على توقير طلاب العلم، والتواضع والدعاء والاستغفار لهم.
  • العلم أعظم ثروة وأشرفها، ينبغي لمن حازها أن يحترمها ويكرمها.
  • إهانة العلماء وإيذاؤهم فسق وضلال؛ لأنهم حملة ميراث النبوة.
  • من فضائل العلم أن العلماء يستغفر لهم أهل السماء والأرض, حتى الحيتان في البحر, وحتى الدواب في البر.
  • أن العلماء هم ورثة الأنبياء في العلم والعمل والدعوة وهداية الخلق.
  • من فضائل العلم وأهله أن الملائكة الكرام تضع أجنحتها لطالب العلم, ووضع الملائكة أجنحتها له تواضعًا له وتوقيرًا وإكرامًا لما يحمله من ميراث النبوة ويطلبه.
  • أن الأنبياء لا يُورَثون؛ لأنهم لم يورثوا درهمًا ولا دينارًا, وهذا من حكمة الله -عز وجل- لئلا يقول قائل إن النبي إنما ادعى النبوة لأجل الدنيا.
  • أن فضل العالم على العابد كفضل القمر على سائر الكواكب؛ لأن القمر يضيء الآفاق ويمتد نوره في أقطار العالم وهذه حال العالم, وأما الكوكب فنوره لا يجاوز نفسه أو ما قرب منه وهذه حال العابد الذي يضيء نور عبادته عليه دون غيره، وإن جاوز نور عبادته غيره فإنما يجاوزه غير بعيد.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید