ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن جندب بن سفيان البجلي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «مَنْ صلَّى الصبحَ فهو في ذِمَّةِ اللهِ، فانظُرْ يا ابنَ آدمَ، لا يَطْلُبَنَّكَ اللهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيء».
ترجمہ
جندب بن سفیان البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے فجر پڑھ لی وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے۔ اس لیے اے آدم کے بیٹے! اس بات کو دھیان میں رکھ کہ کہیں اللہ تعالیٰ تجھ سے اپنی امان کی بابت کسی قسم کی باز پرس نہ کرے“۔
تشریح
اس حدیث میں نماز فجر کی فضیلت کا بیان ہے اور یہ کہ اس نماز کا ادا کرنے والا اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں ہو جاتا ہے یعنی اس کی حفاظت و نگہبانی اور اس کی ضمانت میں آجاتا ہے اور اس کو وہ اپنے امان میں داخل فرمالیتا ہے۔ ابی نعیم کی مستخرج (252/2، حدیث نمبر:1467) میں موجود ایک روایت میں ”جماعت کے ساتھ“ کے الفاظ مذکور ہیں۔ نیز نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کو خبردار کردیا، جو اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں رہنے والے ان نمازیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی جرات کرتے ہیں اور سخت تنبیہ و دھمکی کے اسلوب میں ان سے خطاب فرمایاکہ:اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں رہنے والوں کو تکلیف پہنچاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط گمان و خیال میں نہ رہنا (کہ وہ تمھیں چھوڑ دے گا) بلکہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی سخت سزا اور جہنم میں داخلے-والعیاذ باللہ- کا سبب ہوگی۔ آپ کے قول: ”کہیں، اللہ تعالیٰ تجھ سے اپنے امان کی بابت کسی قسم کی باز پرس نہ کرے“ کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ نماز فجرمیں کوتاہی نہ کرو یا کوئی برا عمل نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ تمھاری حفاظت کا وعدہ واپس لے لے۔!! یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نماز فجر، دن کی نماز کی کنجی و کلید ہے، بلکہ دن بھر کے عمل کی کلید ہے اور یہ گویا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس بات کا عہد و پیمان ہے کہ بندۂ مومن اپنے رب عز و جل کی اطاعت و فرماں برداری، اس کے اوامر کی پیروی اور اس کی منع کردہ باتوں سے اجتناب کرتے ہوئے انجام دے گا۔
تشریح: العربية
يبين هذا الحديث فضل صلاة الصبح وأن مصليها في ذمة اللّه، أي: في كلاءته وحفظه، وفي عهده وأمانته، وفي رواية لأبي نعيم في مستخرجه (2/ 252) ح1467: (في جماعة)، ثم حذَّر الإنسان من التعرض لمن هو كذلك، فخاطبه منبِّهًا محذرًا: فلا يحاسبنك الله بسبب تعرضك بأذى لمن هو في ذمة الله، فإن ذلك سبب لعقوبة الله تعالى ، ودخول النار والعياذ بالله. أو أن معنى قوله: "لا يطلبنك اللّه من ذمته بشيء"، يعني: لا تفرطوا في صلاة الفجر، أولا تعملوا عملاً سيئاً، فيطالبكم الله تعالى بما عهد به إليكم، وهذا دليل على أن صلاة الفجر كالمفتاح لصلاة النهار، بل لعمل النهار كله، وأنها كالمعاهدة مع الله بأن يقوم العبد بطاعة ربه عز وجل ممتثلاً لأمره مجتنبًا لنهيه.
- أهمية صلاة الصبح وفضيلتها.
- فضل من داوم على صلاة الصبح في الجماعة.
- التحذير الشديد من التعرض بسوء لمن صلى الصبح المستلزمة لصلاة بقية الفرائض الخمس.
- أن صلاة الفجر كالمفتاح لصلاة النهار، بل لعمل النهار كله وأنها كالمعاهدة مع الله بأن يقوم العبد بطاعة ربه -عز وجل- ممتثلا لأمره مجتنبا لنهيه.
- الحفاظ على حدود الله -تعالى- وحرماته سبب في حفظ الله للعبد.
- من أساليب الدعوة إلى الله -تعالى- الترغيب والترهيب والنهي المؤكد بالتعليل.