حدیث

اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں اور ( میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ) تو مجھے معاف کر دے اور مجھ پر اپنی رحمت فرما اور جب تو کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے فتنے ميں مبتلا کئے بغير موت دے دینا۔ میں تجھ سے تیری محبت، ہر اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ہر اس عمل سے محبت کی توفیق طلب کرتا ہوں جو تیری محبت کے قريب کردے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال: احتَبسَ عنَّا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم ذات غداة من صلاة الصُّبح حتى كِدْنا نتراءى عينَ الشمس، فخرج سريعًا فثوَّب بالصلاة، فصلَّى رسول الله صلى الله عليه وسلم وتجوَّز في صلاته، فلمَّا سلَّم دعا بصوته فقال لنا: «على مَصَافِّكم كما أنتم» ثم انْفَتَل إلينا فقال: «أمَا إني سأحدِّثكم ما حبسني عنكم الغداة: إني قمتُ من الليل فتوضَّأت فصلَّيتُ ما قُدِّر لي فنعَستُ في صلاتي فاستثقلتُ، فإذا أنا بربي تبارك وتعالى في أحسن صورة، فقال: يا محمد قلت: لبَّيك ربِّ، قال: فيمَ يختصم الملأُ الأعلى؟ قلتُ: لا أدري ربِّ، قالها ثلاثا قال: «فرأيتُه وضع كفِّه بين كتفيَّ حتى وجدتُ بَردَ أنامله بين ثدييَّ، فتجلَّى لي كلُّ شيء وعرفتُ، فقال: يا محمد، قلتُ: لبَّيك ربِّ، قال: فيمَ يختصم الملأُ الأعلى؟ قلتُ: في الكَفَّارات، قال: ما هن؟ قلتُ: مشيُ الأقدام إلى الجماعات، والجلوسُ في المساجد بعد الصلوات، وإسباغُ الوضوء في المكروهات، قال: ثم فيمَ؟ قلت: إطعامُ الطعام، ولِينُ الكلام، والصلاةُ بالليل والناس نِيام. قال: سَلْ. قلت: اللهم إني أسألك فِعْلَ الخيرات، وتَرْكَ المنكرات، وحبَّ المساكين، وأن تغفر لي وترحمني، وإذا أردتَ فتنةً في قوم فتوفَّني غير مفتون، وأسألُك حبَّك وحبَّ مَن يحبُّك، وحبَّ عَمَلٍ يُقرِّب إلى حبِّك»، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنها حقٌّ فادرسوها ثم تعلَّموها».

ترجمہ

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بيان کرتے ہيں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں ہمارے پاس تشريف لانے ميں اتنی تاخير کردی کہ قریب تھا کہ سورج کی ٹکیہ کو ہم دیکھ لیتے۔ پھر آپ ﷺ تیزی سے باہر تشریف لائے اور نماز کی طرف بلایا۔ آپ ﷺ نے مختصر نماز پڑھائی۔ جب آپﷺ نے سلام پھیرا تو خود پکار کر ہم سے فرمایا: تم جیسے اپنی صفوں میں بیٹھے ہو ویسے ہی بیٹھے رہو۔ پھر آپ ﷺ ہماری طرف مڑے اور فرمایا: میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کیا بات تھی جس کی وجہ سے میں آج تمہارے پاس آنے سے رکا رہا۔ میں رات کو اٹھا اور وضو کرکے جس قدر میرے نصیب میں تھی میں نے نماز پڑھی۔ پھر میں نماز میں ہی اونگھنے لگا یہاں تک کہ گہری نیند سو گیا۔اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے رب تبارک و تعالی کے پاس ہوں جو بہترین صورت میں ہے۔ رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد!۔ میں نے جواب دیا: اے میرے رب! میں حاضر ہوں۔ پوچھا: ملأ اعلی (فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت) کس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا: اے میرے رب! میں تو اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اللہ تعالی نے یہ بات تین دفعہ پوچھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ اللہ نے اپنی ہتھیلی میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دی یہاں تک کہ مجھے اپنے سینے پر اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک محسوس ہونے لگی۔ تو میرے لیے ہر شے واضح ہو گئی اور میں جان گیا۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: اے محمد!۔ میں نے جواب دیا: اے میرے رب! میں حاضر ہوں۔ فرمایا: ملأِ اعلی کا کس بات پر جھگڑا ہو رہا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ: (گناہوں کا ) کفارہ بننے والے اعمال میں۔ فرمایا: کفارہ بننے والے اعمال کیا ہیں؟ میں نے جواب دیا: باجماعت نمازوں کے لیے پیدل چل کر جانا، نمازوں کے بعد مساجد میں بیٹھنا، ناگوار حالات ميں کامل اور اچھے طریقے سے وضو کرنا۔ پوچھا: اور کس چیز میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا: کھانا کھلانے، نرم گفتاری اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو اس وقت نماز پڑھنے کے متعلق۔ پھر اللہ تعالی نے فرمایا: مانگو۔ میں نے کہا: اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں اور ( میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ) تو مجھے معاف کر دے اور مجھ پر اپنی رحمت فرما اور جب تو کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے فتنے ميں مبتلا کئے بغير موت دے دینا۔ میں تجھ سے تیری محبت، ہر اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ہر اس عمل سے محبت کی توفیق طلب کرتا ہوں جو تیری محبت کے قريب کردے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ حق ہے، اس پر غور کرو اور اسے سیکھو۔

تشریح

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ ایک دن نماز فجر کے لیے نبی کريم ﷺ نے نکلنے میں تاخير کردی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ تیزی کے ساتھ باہر تشریف لائے اور اقامتِ نماز کا حکم دیا۔ آپ ﷺ نے انہیں مختصر نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ کو حکم دیا کہ وہ صفوں میں اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے رہیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں بتلايا کہ آپ ﷺ کو کس وجہ سے نماز فجر میں تاخیر ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ رات کو نماز تہجد کے لیے اٹھے، وضو فرمایا اور جتنی رکعتیں اللہ کو منظور تھیں اتنی ادا کیں اور پھر اپنی نماز کے دوران ہی سو گئے۔ خواب میں آپ ﷺ نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ مقرب فرشتے کس شے کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: میں تو کچھ نہیں جانتا۔ یہ سوال و جواب تین دفعہ ہوا۔ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی نبی ﷺ کے دونوں شانوں کے مابین رکھ دی یہاں تک کہ آپ ﷺ کو اپنے سینے میں اللہ تعالیٰ کی انگلیوں کی ٹھنڈک محسوس ہونے لگی۔ نبی ﷺ نے جن اوصاف سے اپنے رب عز و جل کو متصف کیا ہے وہ حق اورسچ ہيں اور اللہ تعالی نے جن اوصاف سے اپنے آپ کو متصف کیا ہے ان پر جوں کا توں بغیر کسی تمثیل کے ایمان لانا اور ان کی تصدیق کرنا واجب ہے۔ جسے اسے سمجھنے میں کچھ اشکال یا اشتباہ ہو تو وہ ویسے ہی کہہ دے جیسے وہ پختہ علم والے لوگ کہتے ہیں جن کی اللہ تعالی نے تعریف فرمائی اور ان کے بارے میں بتایا کہ ان کے سامنے جب کوئی مشتبہ بات آتی ہے تو وہ کہتے ہیں: (آمنّا به كُلٌّ من عند ربِّنا۔) ترجمہ: ’’ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔‘‘ اس شخص کو چاہیے کہ جس بات کا اسے علم نہ ہو اس کے درپے نہ ہو، کیونکہ اس سے اس کے ہلاکت میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ مومن لوگ تو جب بھی اس طرح کی بات سنتے ہیں وہ کہہ دیتے ہیں کہ ایسا اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں بتلایا ہے اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ ہی کہا ہے۔ ایسا کہنا ان کے ایمان اورجذبۂ اطاعت گزاری میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی نبی ﷺ کے کندھوں کے مابین رکھی تو آپ ﷺ کے سامنے ہر بات کھل گئی اور آپ ﷺ کو جواب کا علم بھی ہو گیا چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ فرشتے ایسی خصلتوں کے بارے میں گفتگو، بحث اور جھگڑا کر رہے ہیں جو گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں۔ ان کےجھگڑنے سے مراد یہ ہے کہ وہ ان اعمال کے اثبات اور انہیں لے کر آسمان کی طرف چڑھنے میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر اس سے مراد ان کا ان کی فضیلت اور شرف کے بارے میں گفتگو کرنا ہے۔ یہ خصلتیں یہ ہیں: نماز باجماعت کے لیے پیدل چل کر جانا، نمازوں کے ختم ہو جانے کے بعد ذکر، تلاوتِ قرآن اورعلم سیکھنے اور سکھانے کے لیے مساجد میں بیٹھنا، پورے طریقے سے وضو کرنا اور وضو کے پانی کوان تمام جگہوں تک پہنچانا جہاں تک پہنچانا شرعاً ضروری ہو، ان حالات میں بھی جن ميں وضو کرنا ناگوار محسوس ہوتا ہو جیسے سخت سردی میں۔ رب تعالی شانہ نے پھر پوچھا: مقرب فرشتے اور کن باتوں میں جھگڑ ا کرتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کھانا کھلانے میں، لوگوں سے اچھے انداز اور نرم لہجے میں بات کرنے میں اور رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق جب کہ لوگ سو رہے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مجھ سے جو چاہتے ہو مانگو۔ اس پر نبی ﷺ نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اسے ہر نیکی کو کرنے، ہر برائی کو ترک کرنے اور فقراء اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق دے اور یہ کہ اللہ آپ کو بخش دے اور آپ پر رحم فرمائے اور جب اللہ کا کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنے اور انہیں راہ حق سے گمراہ کرنے کا ارادہ ہو تو وہ آپ ﷺ کو فتنے اور گمراہی سے بچاتے ہوئے اس سے پہلے ہی موت دے دے اور یہ کہ اللہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ سے اور ہر اس شخص سے محبت کرنے کی توفیق دے جو اللہ سے محبت کرتا ہو اور ہر اس عمل کو آپ ﷺکے لیے محبوب بنا دے جو اللہ کی قربت کا ذريعہ ہو۔ پھر نبی ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام کو بتایا کہ یہ خواب برحق ہے اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس پر غور کریں اور اس کے معانی اور احکامات کو سیکھیں۔

تشریح: العربية

يخبر معاذ بن جبل رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم في بعض الأيام تأخر في الخروج إليهم لصلاة الفجر، حتى كادت الشمس أن تطلع، فخرج إليهم مسرعًا، فأمر بإقامة الصلاة، ثم صلى بهم وخفَّف، فلما انتهى من صلاته، أمرهم أن يظلوا في مواضعهم من الصفوف، ثم أخبرهم عن سبب تأخره عن صلاة الفجر، أنه قام بالليل فتوضأ، ثم صلى ما شاء الله من الركعات، فنام في صلاته، فرأى ربه تعالى في المنام في أحسن صورة، فسأله: في أي شيء يتحدَّث الملائكة المقربون؟ فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: لا أدري. حدَث هذا السؤال وهذا الجواب ثلاث مرات، فوضع الرب سبحانه وتعالى كفه بين كتفي النبي صلى الله عليه وسلم، حتى أحسَّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم ببرد أصابعه تعالى في صدره. ووَصْفُ النبي صلى الله عليه وسلم لربه عز وجل بما وصفه به حق وصدق، يجب الإيمان والتصديق به كما وصف الله عز وجل به نفسه مع نفي التمثيل عنه، ومن أشكل عليه فهمُ شيء من ذلك واشتبه عليه فليقل كما مدح الله تعالى به الراسخين في العلم وأخبر عنهم أنهم يقولون عند المتشابه: {آمنّا به كُلٌّ من عند ربِّنا} ولا يتكلَّف ما لا علم له؛ فإنه يُخشى عليه من ذلك الهلكة، فكلما سمع المؤمنون شيئاً من هذا الكلام قالوا: هذا ما أخبرنا الله ورسوله وصدقَ الله ورسولُه وما زادَهُم إلاّ إيمانًا وتسليمًا. ولما وضع الرب سبحانه وتعالى كفه بين كتفي النبي صلى الله عليه وسلم انكشف له كل شيء وعرف الجواب فقال: يتحدثون ويتناقشون ويختصمون في الخصال التي من شأنها أن تُكَفِّر الخطيئة، واختصامهم عبارة عن تبادرهم إلى إثبات تلك الأعمال والصعود بها إلى السماء، أو تحدثهم في فضلها وشرفها، وهذه الخصال هي: المشي إلى صلاة الجماعة، والجلوس في المسجد بعد انتهاء الصلوات للذكر والقراءة وسماع العلم وتعليمه، وإتمام الوضوء وإبلاغه مواضعه الشرعية في الحالات التي تكره النفس فيها الوضوء كالبرد الشديد. ثم قال له الرب: ثم في أي شيء يختصم الملائكة المقربون؟ فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: إطعام الناس الطعام، والكلام مع الناس بالكلام الطيب اللين، وصلاة قيام الليل والناس نائمون. فقال له الرب سبحانه: اسألني ما شئت. فسأله النبي صلى الله عليه وسلم أن يوفِّقه لفعل كل خير وترك كل شر، وأن يحببه في المساكين والفقراء، وأن يغفر له ويرحمه، وإذا أراد الله أن يفتن قومًا ويضلهم عن الحق، أن يتوفاه غير مفتون ولا ضال، وأن يرزقه حبَّه وحبَّ من يحب الله، وحب كل عمل يقربه إلى الله. ثم أخبر النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه أن هذه الرؤيا حق، وأمرهم أن يدرسوها ويتعلموا معانيها وأحكامها.

  • لم يكن من عادته صلى الله عليه وسلم تأخير صلاة الصبح إلى قريب طلوع الشمس.
  • من أخَّر الصلاة إلى آخر الوقت لعذر أو غيره وخاف خروج الوقت في الصلاة إن طوَّلها، فعليه أن يخففها حتى يدركها كلها في الوقت.
  • من رأى رؤيا تسره فإنه يقصها على أصحابه وإخوانه المحبين له.
  • من استثقل نومه في تهجده بالليل حتى رأى رؤيا تسره فإن في ذلك بشرى له.
  • فيه دلالة على شرف النبي صلى الله عليه وسلم وتفضيله بتعليمه ما في السموات والأرض.
  • جواز رؤية الله في المنام وهي رؤية قلبية وليست بصرية وتكون بحسب حال الشخص من الصلاح والتقوى.
  • إثبات الصورة لله تعالى.
  • رؤيا الأنبياء وحي من الله تعالى.
  • إثبات صفة الكف وصفة الكلام لله -عز وجل- على ما يليق بجلاله -سبحانه-

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید