حدیث

جب كوئي مسلمان شخص نماز اور ذكر كے لیے مساجد میں پابندی کے ساتھ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے کسی غیر موجود شخص کی آمد پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما توطَّنَ رجلٌ مسلمٌ المساجدَ للصلاة والذِّكر، إلا تَبَشْبَشَ اللهُ له، كما يَتَبَشْبَشُ أهلُ الغائب بغائبهم إذا قَدِمَ عليهم».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب كوئي مسلمان شخص نماز اور ذكر كے لیے مساجد میں پابندی کے ساتھ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتا ہے جیسے کسی غیر موجود شخص کی آمد پر اس کے اہلِ خانہ خوش ہوتے ہیں“۔

تشریح

مسلمان جو پابندی کے ساتھ مساجد میں نماز اور ذکر کے لیے آتا ہے اور ہمیشہ ایسا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ایسے مسرور اور خوش ہوتا ہے جیسے کسی غیر موجود شخص کے آنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔ يہاں بشاشت کی صفت کی تاویل شفقت اور رحمت وغیرہ جیسے معانی سے کرنا درست نہیں ہے بلکہ اس کا بغیر تحریف و تعطیل اور بنا تکییف و تمثیل کے اللہ عز وجل کے لیے اثبات کرنا واجب ہے تاہم اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ شفقت و رحمت صفتِ بشاشت کے لوازمات میں سے ہیں۔

تشریح: العربية

المسلم الذي يلتزم حضور المساجد للصلاة والذِّكر فيها ويداوم على ذلك، فإن الله تعالى يتبشبش له، ويفرح به، كما يفرح أهل الغائب بقدوم غائبهم، ولا يجوز تأويل صفة البشبشة إلى الرأفة أو الرحمة أو غيرها، بل يجب إثباتها صفة لله تعالى من غير تحريف ولا تعطيل ومن غير تكييف ولا تمثيل، هذا مع العلم أن البشبشة من لوازمها الرأفة والرحمة، والله أعلم.

  • فيه تبشير ملتزم المساجد ومستوطنها.
  • إثبات صفة البشبشة لله -تعالى-، وهي تقارب صفة الفرح في المعنى.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید