ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «اسمعوا وأطيعوا، وإن استعمل عليكم عبد حبشي، كأن رأسه زبيبة».
ترجمہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر کسی حبشی غلام ہی کو حاکم مقرر کر دیا جائے، جس کا سر کشمش کی طرح (چھوٹا سا) ہو“۔
تشریح
حکمرانوں کی اطاعت کرو اگرچہ تم پر نسب اور شکل و صورت کے اعتبار سے ایک ایسا حبشی غلام امیر مقرر دیا جائے جس کا سر کشمش کی طرح ہو، اس پیرائے میں مبالغہ کا معنی ہے کہ چاہے یہ حاکم نسب کے اعتبار سے سیاہ فام غلام ہی کیوں نہ ہو۔ ”اگر حاکم مقرر کر دیا جائے“ اس کا اطلاق حکمران کی طرف سے مقرر کردہ گورنر پر بھی ہوتا ہے اور خود حکمران پر بھی۔ ولو بالفرض اگر کوئی حاکم لوگوں پر غلبہ حاصل کرلے، اور ان پر قبضہ واقتدار جمالے اور وہ عرب میں سے نہ ہو، بلکہ ایک سیاہ فام غلام ہو تو پھر بھی ہم پر فرض ہے کہ ہم اس کی بات کو سنیں اور اس کی اطاعت کریں۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حکمرانوں کی اطاعت کرنا فرض ہے ماسوا ان امور کے جن میں اللہ کی معصیت ہو۔ کیونکہ ان کی اطاعت کرنے میں خیر و بھلائی، اور امن و استقرار ہے اور اس کی وجہ سے انارکی نہیں پھیلتی اور ہوائے نفس کی پیروی نہیں ہوتی۔ لیکن اگر کسی معاملے میں حکمرانوں کی نافرمانی کی جائے جس میں ان کی اطاعت لازم ہے، تو انارکی پھیلے گی اور ہر کوئی اپنی من مرضی پر چلنا شروع کر دے گا، امن و امان ختم ہوجائے گا، معاملات بدعنوانی کا شکار ہوجائیں گے، اور فتنوں کی کثرت ہو جائے گی۔
تشریح: العربية
الزموا السمع والطاعة لولاة الأمور، حتى لو استعمل عليكم عبد حبشي أصلًا وفرعًا وخلقةً، كأن رأسه زبيبة، وهذا من باب المبالغة في كون هذا العامل عبدًا حبشيًا أصلاً وفرعًًا، قوله: ((وإن استعمل)) يشمل الأمير الذي هو أمير السلطان، وكذلك السلطان. فلو فرض أن سلطانا غلب الناس واستولى وسيطر وليس من العرب؛ بل كان عبدًا حبشيًا فإن علينا أن نسمع ونطيع. فهذا الحديث يدل على وجوب طاعة ولاة الأمور إلا في معصية الله، لما في طاعتهم من الخير والأمن والاستقرار وعدم الفوضى وعدم اتباع الهوى. أما إذا عصي ولاة الأمور في أمر تلزم طاعتهم فيه؛ فإنه تحصل الفوضى، ويحصل إعجاب كل ذي رأي برأيه، ويزول الأمن، وتفسد الأمور، وتكثر الفتن.
- وجوب طاعة ولي الأمر فيما ليس بمعصية دون النظر إلى لونه أو جنسه.
- لا يجوز تولية العبد الإمامة، وإنما ذُكر في الحديث من باب المبالغة في الطاعة، أو إذا تغلب قهرًا.
- من أهداف الدعوة جمع كلمة المسلمين، والعمل على ما يحقق وحدة المجتمع الإسلامي.
- أنه إن لم نسمع ونطع حصلت الفوضى وزال النظام وزال الأمن وحل الخوف.
- استدل البخاري بهذا الحديث على جواز إمامة المفتون والمبتدع.