حدیث

غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو اور نیکو کار ہو تو اسے دو ثواب ملتے ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «للعبد المملوك المصلح أجران»، والذي نفس أبي هريرة بيده لولا الجهاد في سبيل الله والحج، وبر أمي، لأحببت أن أموت وأنا مملوك.

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نیکوکار مملوک غلام کے لیے دوہرا اجر ہے“۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے، اگر جہاد فی سبیل اللہ، حج اور اپنی ماں کی خدمت میرے سامنے نہ ہوتی تو مجھے یہ پسند ہوتا کہ میں غلامی کی حالت میں مروں۔

تشریح

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسے غلام کے لیے دُہرا اجر ہے جو اپنے مالک کا خیر خواہ اور اپنے رب کے حقوق کو قائم کرنے والا ہو، ایک عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی وجہ سے اور دوسرے آقا کی خدمت کرکے اس کا حق ادا کرنے کی وجہ سے۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر غلام پر جہاد ہوتا اور مجھ پر اپنی والدہ کے خرچے اور خدمت کی ذمہ داری نہ ہوتی تو مجھے غلام رہ کر مرنا زیادہ پسند تھا اس پر ملنے والے اجر کی خاطر۔

تشریح: العربية

قال أبو هريرة رضي الله عنه : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : للعبد المملوك الناصح لسيده والقائم بحق ربه أجران؛ لقيامه بحق الله تعالى من العبادات وقيامه بحق سيده من الخدمة. ثم أخبر أبو هريرة رضي الله عنه أنه لولا أن المملوك لا جهاد عليه، ولولا قيامه ببر أمه بالنفقة والخدمة، لأحب أن يموت وهو مملوك لما فيه من أجر.

  • فضل المملوك الذي يُؤدي حق الله وحق مواليه.
  • صلاح العبد يكون بإحسان العبادة والنصح للسيد.
  • فضل الجهاد والحج والحث على بر الوالدين وخاصة الأم.
  • العبد المملوك لا جهاد عليه ولا حج في حال العبودية.
  • فضل أبي هريرة -رضي الله عنه-.
  • مواساة الضعفاء من العبيد ومن في معناهم وتطييب خاطرهم وحثهم على الصبر على ما امتحنوا به وأن يحتسبوا ذلك عند ربهم -تبارك وتعالى-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید