حدیث

جو شخص کسی میت کو غسل دے، اور اس کی پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالی اسے چالیس مرتبہ معاف فرمائے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي رافع رضي الله عنه مرفوعاً: «من غسَّل ميتاً فكتم عليه، غفر الله له أربعين مرة».

ترجمہ

ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی میت کو غسل دے اور اس کی پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالی اسے چالیس مرتبہ معاف فرمائے گا“۔

تشریح

اس حدیث میں اس شخص کی فضیلت کا بیان ہے جو میت کو غسل دیتا ہے اور اس کے کسی عیب کو دیکھ کر اس پر پردہ ڈالتا ہے۔ میت کی کسی ناپسندیدہ حالت کو دیکھنا دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ جو اس کی حالت سے تعلق رکھے اور دوسرے وہ جو اس کے جسم اور بدن سے تعلق رکھے۔ پہلی قسم جیسے نہلانے والا دیکھے کہ میت کا چہرہ تبدیل ہوگیا ہے، کالا اور بدصورت ہوگیا ہے، عموماً یہ اس کے بُرے خاتمے کی علامت سمجھی جاتی ہے، اللہ کی پناہ، سو نہلانے والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ لوگوں کو یہ کہتا پھرے کہ میں نے اس شخص کو اس حالت میں دیکھا، اس لیے کہ یہ اس کے عیوب کو بیان کرنا ہے، حالانکہ یہ میت اپنے رب کے ہاں چلا گیا ہے اور عنقریب وہ اپنے عدل و فضل کے مطابق اسے بدلہ دے گا۔ دوسرے یہ کہ نہلانے والا میت کی پیٹھ پر کوئی عیب دیکھے جسے وہ اپنی زندگی میں لوگوں سے چھُپاتا رہا، تو اس عیب کو چُھپانے والے کے لیے اجرِ عظیم چالیس مرتبہ معافی کی صورت میں ملے گا۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث بيان فضل من غسَّل ميتاً فرأى منه عيباً فكتمه، والذي يرى من الميت من المكروهات نوعان: النوع الأول: ما يتعلق بحاله، النوع الثاني: ما يتعلق بجسده، فالأول: لو رأى مثلاً أن الميت تغير وجهه واسودَّ وقبح فهذا قد يكون دليلًا على سوء خاتمته نسأل الله العافية فلا يحل له أن يقول للناس إني رأيت هذا الرجل على هذه الصفة لأن هذا كشف لعيوبه والرجل قدم على ربه وسوف يجازيه بما يستحق من عدل أو فضل، والثاني: كأن يرى عيبًا في ظهره كان يستره عن الناس في حياته، والساتر له بذلك الأجر العظيم من الغفران أربعين مرة.

  • وجوب كتم عورات الميت إن رأى شيئاً منه.
  • أنَّ من تولى غسل أخيه المسلم إذا مات فله أجر عظيم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید