ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «من مات ولم يَغْزُ، ولم يُحدث نفسه بالغزو، مات على شُعْبَةٍ من نِفَاقٍ»
ترجمہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص مر گیا اور اس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اس کی نیت کی تو وہ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم پر مرا“۔
تشریح
ہر وہ شخص جو جہاد کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور اس کی اس حال میں موت آ جائے کہ اس نے کبھی جہاد نہ کیا ہو اور نہ اس کا خیال ہی اس کے دل میں گزرا ہو یعنی کبھی اس نے جہاد کا ارادہ نہ کیا ہو تو جان لینا چاہیے کہ اس میں نفاق کے کچھ اثرات ہیں۔ ظاہری طور پر جہاد کے ارادے کی علامت یہ ہے کہ جنگ کے آلات کو تیار کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً﴾ ”اوراگر وہ نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لیے سامان تیارکرتے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مَاتَ عَلى شُعْبَةٍ مِن نِفَاقٍ“ یعنی نفاق کی ایک نوع پر مرا۔ یعنی جو اس حال میں مرا، (اس کا مطلب یہ ہے کہ) یہ منافقین اور جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں سے مشابہت رکھتا ہے اور جو کسی قوم سے مشابہت رکھتا ہے وہ انہی میں سے ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر مومن پر یہ واجب ہے کہ وہ جہاد کی نیت کرے۔ جہاد کرنے سے مراد جہاد کے تمام شروط پائے جانے پر جہاد کرنا ہے ورنہ مومن اپنی نیت بر باقی رہے گا جب تک کہ اسے جہاد میں جانے کے لیے تمام شروط متوفر نہ ہو جائیں۔
تشریح: العربية
كل رجل قادر على الغزو يبلغه الأجل ولم يغز ولم يحدث نفسه بذلك أي لم يكلم بالغزو نفسه، والمعنى لم يعزم على الجهاد ففيه شيء من النفاق، ومن علاماته في الظاهر إعداد آلة الغزو، قال تعالى: (ولو أرادوا الخروج لأعدوا له عدة). وقوله: (مات على شعبة من نفاق): أي: نوع من أنواع النفاق ، أي: من مات على هذا فقد أشبه المنافقين والمتخلفين عن الجهاد، ومن تشبه بقوم فهو منهم، فيجب على كل مؤمن أن ينوي الجهاد. وكونه يغزو أي: بشروط الغزو والجهاد، فإذا توفرت عُمل به وإلا بقيت النية موجودة إلى حين توفر دواعي الجهاد.
- أن من لم يغز ولم يحدث نفسه به فقد أشبه المنافقين في تخلفهم عن الجهاد.
- تحديث النفس بالغزو بصدق يرفع العبد إلى مقام أهل الايمان.
- حث الإمام رعيته على الاستعداد للجهاد، وعدم تعوّد الجبن والخوف من لقاء العدو.
- أقل الجهاد إشغال الفكر والنفس فيه