حدیث

مشرکین کے ساتھ اپنى جانوں، اپنے اموال اور اپنى زبانوں کے ذریعے جہاد کرو"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود والنسائي وأحمد

عربی متن

عن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «جَاهِدُوا المشركين بأموالكم وأنفسكم وألسنتكم».

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مشرکین کے ساتھ اپنى جانوں، اپنے اموال اور اپنى زبانوں کے ذریعے جہاد کرو"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کفار سے جہاد کرنے اور تمام امکانی وسائل اختیار کر کے پوری قوت سے ان کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا ہے، تاکہ اللہ کے دین کو سربلندی حاصل ہو۔ جہاد کے کچھ وسائل درج ذیل ہيں : 1- کفار سے جہاد کے لیے ہتھیاروں کی خریداری میں اور مجاہدین کے رسد وغیرہ میں مال خرچ کرنا۔ 2- کافروں کا مقابلہ کرنے کے لیے جسم وجاں کے ساتھ نکلنا۔ 3- انھیں زبان سے اسلام کی دعوت دینا، ان پر حجت قائم کرنا اور ان کے دلائل ودعووں کا ابطال کرنا۔

فوائد

  • جان، مال اور زبان کے ذریعے حسب استطاعت مشرکوں سے جہاد کرنے کی ترغیب دینا۔ جہاد صرف بہ نفس نفیس جنگ میں شامل ہونے ہی کا نام نہيں ہے۔
  • جہاد کا یہ حکم وجوب کے لیے ہے۔ ویسے جہاد کبھی فرض عین ہوتا ہے اور کبھی فرض کفایہ۔
  • جہاد کی مشروعیت کے کئی اسباب ہيں۔ جیسے 1- شرک اور اہل شرک کا مقابلہ کرنا۔ کیوں کہ اللہ کسی بھی حال میں شرک کو قبول نہيں کرنا۔ 2۔ دعوت الی اللہ کی راہ میں سامنے آنے والے روڑوں کو ہٹانا۔ 3۔ عقیدے کو اس سے ٹکرانے والی تمام چیزوں سے محفوظ رکھنا۔ 4۔ مسلمانوں، ان کے وطنوں، عزت وآبرو اور اموال کا دفاع کرنا۔
تشریح: العربية

أَمَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم بجهاد الكفّار، وبَذْلِ الجُهْدِ في مواجهتهم بكل وسيلة على قدر الاستطاعة لتكون كلمة الله هي العليا، ومن ذلك: أولًا: إنفاق المال في جهادهم؛ من شراء سلاح ونفقة على المجاهدين ونحو ذلك. ثانيًا: الخروج بالنفس والبدن لملاقاتهم ومدافعتهم. ثالثًا: بدعوتهم لهذا الدين باللسان، وإقامة الحجة عليهم، وزجرهم والرد عليهم.

  • الحث على جهاد المشركين بالنفس والمال واللسان؛ كلٌّ بحسب استطاعته، وأنّ الجهاد لا يَقْتَصِرُ على المقاتلة بالنفس.
  • الأمر بالجهاد للوجوب، وقد يكون واجبًا عَيْنيًّا، وقد يكون واجبًا كِفَائيًّا.
  • شرع الله الجهاد لأمور منها: أولًا: مقاومة الشرك والمشركين؛ لأن الله لا يقبل الشرك أبدًا، ثانيًا: إزالة العَقَبَات التي تَعْتَرِض سبيل الدعوة إلى الله، ثالثًا: حماية العقيدة من كل ما يُضَادُّها، رابعًا: الدفاع عن المسلمين وعن أوطانهم وأعراضهم وأموالهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید