حدیث

میں ہر ایسے مسلمان سے بری ہوں، جو مشرکوں کے بیچ رہتا ہو

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن جرير بن عبد الله قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سَرِيَّةً إلى خَثْعَمٍ فاعٍتَصَمَ نَاسٌ منهم بالسجود، فَأَسْرَعَ فيهم القَتْلُ قال: فَبَلَغَ ذلك النبيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ لهم بنصف العَقْلِ وقال: «أنا بريء من كل مسلم يُقيم بين أَظْهُرِ المشركين». قالوا: يا رسول الله لم؟ قال: «لا تَرَاءَى نَارَاهُما».

ترجمہ

جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خثعم قبیلے کی جانب ایک سریہ بھیجا۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ بچاو کے لیے سجدے میں گر پڑے، لیکن انھیں تیزی سے قتل کر دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب اس کی اطلاع اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو ان کى آدھی دیت ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: "میں ہر ایسے مسلمان سے بری ہوں، جو مشرکوں کے بیچ رہتا ہو"۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ تو فرمایا : "ان میں سے ایک کی آگ دوسرے کو نہيں دکھنی چاہیے"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خثعم قبیلے کی ایک حصے کی جانب، جو کافر تھا، لشکر کی ایک ٹکڑی بھیجی۔ یہ لوگ وہاں پہنچے تو کچھ لوگ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ مسلم ہيں، سجدہ کرنے لگے۔ لیکن، چونکہ وہ مشرکوں کے ساتھ رہ رہے تھے، اس لیے مسلمانوں نے انھیں مشرک سمجھ کر بنا وقت گنوائے قتل کر دیا۔ لیکن جب یہ یقین ہو گیا کہ وہ مسلمان ہی تھے، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کى دیت عام مسلمانوں کى دیت سے آدھی رکھى۔ پوری دیت ادا کرنے کے لیے اس لیے نہيں کہا کہ اس قتل کے وقوع کا سبب وہ خود ہی تھے۔ شریعت نے کافروں کے علاقے میں رہنے کو حرام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مسلمان کافر سے اتنا قریب نہ رہے کہ اگر ان میں ایک آگ جلائے تو دوسرے کو دکھنے لگے۔ اس طرح کا حکم کفر اور اس کے پیروکاروں سے براءت کے اظہار کی بنا پر دیا گیا ہے۔

تشریح: العربية

أرسل النبي صلى الله عليه وسلم قطعة من الجيش لجماعة من قبيلة خثعم لأنهم كانوا كفاراً، فجعل بعضهم يسجد ليدل على أنه مسلم، إلا إن المسلمين سارعوا إلى قتلهم لظنهم أنهم مشركون، ولبقائهم بين أظهر المشركين، فلما تيقن إسلامهم جعل النبي -عليه الصلاة والسلام- ديتهم على النصف من دية المسلمين، ولم يجعلها كاملة؛ لأنهم كانوا السبب في حصول هذا القتل، وحرم الشرع الإقامة في بلاد الكفار فلا يلتقي المسلم بالكافر ولا تتقابل نارهما، بمعنى لا يكون قريبًا منه بحيث لو أوقد أحدهما نارًا لرآه الآخر، للبراءة من الكفر وأهله.

  • تحريم قتل منْ أظهر الإِسلام، وإن كَانَ بين الكفّار.
  • أن منْ مات بفعل نفسه، وفعل غيره يعطى نصف الدية؛ لموته بجناية نفسه.
  • تحريم الإقامة فِي دار الحرب؛ وأنه من كبائر الذنوب، إلا للضرورة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید