ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أنس بن مالك وأبي هريرة رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم فيما يرويه عن ربه عز وجل قال: «إذا تَقَرَّبَ العبدُ إليَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إليه ذِرَاعًا، وإذا تَقَرَّبَ إليَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وإذا أتاني يمشي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً».
ترجمہ
انس بن مالک اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے رب سے روایت کیا ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے، تو میں اُس سے ایک ہاتھ (گز) قریب ہوتا ہوں اور جب بندہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں، جب بندہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں“۔
تشریح
جو شخص نیکیوں کے ذریعے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اگرچہ وہ کم ہی کیوں نہ ہوں اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا زیادہ ثواب و اکرام سے نوازتا ہے اور جب جب وہ نیکی میں بڑھتا جاتا ہے تو وہ اس کے ثواب میں اضافہ کرتا ہے اور فوری طور پر اس پر اپنی رحمت اور فضل نچھاور کرتا ہے۔ اور یہ تفسیر اس اعتبار سے ہے کہ یہ حدیث صفات کی احادیث میں سے نہیں ہے، جیسا کہ اہل سنت و جماعت کے ایک بڑے گروہ کا مذہب ہے جو صفات کو ثابت کرتے ہیں اور انہی میں سے ابن تیمیہ ہیں اور ایک دوسری جماعت نے صفتِ ھرولۃ ’دوڑ کر آنے کی صفت‘ کو بغیر اس کی کیفیت میں کلام کیے اللہ تعالی کے لیے اثبات کیا ہے۔
تشریح: العربية
من تقرَّب إلى الله بشيء من الطاعات ولو قليلًا قابله الله بأضعاف من الإِثابة والإِكرام، وكلما زاد في الطاعة زاده في الثواب، وأسرع برحمته وفضله، وهذا التفسير بناءً على أن الحديث ليس من أحاديث الصفات كما هو مذهب جمع من أهل السنة والجماعة المثبتين للصفات، ومنهم ابن تيمية، وعند طائفة أخرى إثبات صفة الهرولة لله تعالى دون الخوض في كيفيتها.
- الدلالة على كرم الله عز وجل حيث يُعطِي الكثير في مقابلة القليل.
- إثبات صفة المجيء والإتيان، ونحن نؤمن بها دون تكييف أو تحريف أو تعطيل أو تمثيل، وهي صفة ثابتة بالكتاب والسنة.