حدیث

مسلمان دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایک ہاتھ کی طرح ہیں، ان کا خون اور ان کا مال برابر ہے، ان کے کسی ادنی انسان کی دی ہوئی امان بھی اس لائق ہوتی ہے کہ سارے مسلمان اس کا احترام کریں اور مسلمانوں کى اور مال غنیمت ان میں کا سب سےدور شخص بھى لوٹاتا ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «يَدُ المسلمين على مَن سِواهم، تَتَكافَأُ دِماؤهم وأموالُهم، ويُجِيرُ على المسلمين أدْناهم، ويَرُدُّ على المسلمين أَقْصَاهم».

ترجمہ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے, وہ اپنے دادا سے روایت نقل کرتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "مسلمان دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایک ہاتھ کی طرح ہیں، ان کا خون اور ان کا مال برابر ہے، ان کے کسی ادنی انسان کی دی ہوئی امان بھی اس لائق ہوتی ہے کہ سارے مسلمان اس کا احترام کریں اور مسلمانوں کى اور مال غنیمت ان میں کا سب سےدور شخص بھى لوٹاتا ہے"۔

تشریح

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمانوں کے اندر مکمل اتحاد و اتفاق رہنا چاہیے اور دشمن کے مقابلے میں انھیں ایک جان کی طرح کھڑا ہونا چاہیے۔ ان کے اندر انتشار اور آپسی پھوٹ کی بجائے اس قدر ہم آہنگی اور آپسی محبت ہو کہ وہ سچ مچ ایک ہی جماعت کی طرح دکھیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا : {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا} (اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور گروہ بندیوں کا شکار نہ بنو) ایک اور جگہ فرمایا : {لَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ} (آپس میں جھگڑو نہیں، ورنہ تم کمزور ہو جاو گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی)۔ اسی طرح تمام مسلمانوں کا خون دیت اور قصاص کے معاملے میں بھی برابر ہے۔ کوئی کسی سے افضل نہیں ہے۔ نہ نسب کی بنیاد پر، نہ رنگ و نسل کی بنیاد پر اور نہ مسلک کی بنیاد پر۔ سارے لوگ اس حق اور واجب کے سامنے برابر ہیں۔ اس حدیث میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ کسی ایک مسلمان نے بھی جب کسی کافر کو امان دے دی، تو اس کی دی ہوئی امان سارے مسلمانوں کے لیے واجب التسلیم ہو گى، اس لیے اس کا احترام ضروری ہے اور اس کے عہد کی خلاف ورزی جائز نہیں ہے۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی ذکر ہے کہ کسی سریے کو لشکر کی قوت کی بنا پر جو مال غنیمت حاصل ہو، وہ اس سریے میں شامل لوگوں کو بھی ملے گا اور فوج کے ان لوگوں کو بھی جو وہاں سے دور موجود ہوں، کیوں کہ یہ مال غنیمت فوج کی طاقت کی بنا پر حاصل ہوا ہے اور بیت المال میں جو فے کا مال آئے وہ یکساں طور پر قریب کے فوجیوں کے لیے بھی ہے اور دور کے فوجیوں کے لیے بھی، اگر چہ اسے حاصل کرنے میں قریب کے فوجیوں کی ہی تگ ودو شامل ہو۔

تشریح: العربية

دل الحديث على أن كلمة المسلمين يجب أن تكون واحدة، وأمرهم ضد أعدائهم واحد، فلا يتفرقون ولا يتخاذلون، وإنما هم عصبة واحدة، وأمرهم واحد على الأعداء؛ قال تعالى : (وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا)، وقال تعالى : (لَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ). كما أنَّ دماء المؤمنين والمسلمين تتساوى في الدية والقصاص، فليس أحد أفضل من أحد، لا في الأنساب، ولا في الأعراق، ولا في المذاهب، فهم أمام هذا الحق والواجب سواء، وفيه أيضا أنَّ المسلم الواحد إذا أمَّن كافرًا صار أمانه ساريًا على عموم المسلمين، فيجب احترام أمانه، ولا يحل هتك عهده وعقده. وفي الحديث أيضا أن السرية إذا غنمت بقوة الجيش كانت الغنيمة لهم وللقاصي من الجيش، إذ بقوته غنموها، وأن ما صار في بيت المال من الفيء فهو لقاصيهم ودانيهم، وإن كان سبب أخذه دانيهم.

  • صحة أمان الكافر إذا صدر من مسلم أيِّ مسلم كان ذكرًا أم أنثى حرًّا أم عبدًا.
  • إذا قال مسلم لكافرٍ: أجرتك أو أنت آمن ونحو ذلك, ثبت حكم الأمان والتزم به جميع المسلمين, فيحرم قتل هذا الكافر, ويحرم ماله والتعرض له.
  • أن الأمان العام مع الكفار يعقده الإمام, أما الأفراد من المسلمين فيعقِدون الأمان مع أفرادٍ يسيرةٍ من الكفار.
  • أنَّ كلمة المسلمين واحدة، وأمرهم ضد أعدائهم واحد، فلا يتفرقون ولا يتخاذلون، وإنما هم عصبة واحدة.
  • أن غنائم الحرب تُعطى لجميع أفراد الجيش, لقاصيهم ودانيهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید