حدیث

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خالد بن ولید کو دومۃ الجندل کے حکمراں اکیدر کی جانب بھیجا۔ وہ ان کو گرفتار کر کے آپ کے پاس لائے تو آپ نے اس کے خون کو تحفظ فراہم کیا اور اس سے جزیہ پر مصالحت کر لی

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه وعن عثمان بن أبي سليمان رضي الله عنه «أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث خالد بن الوليد إلى أُكَيْدِرِ دُومَةَ؛ فأُخِذ فأتوه به، فَحَقَنَ له دَمَهُ وصَالَحَه على الجِزْيَة».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور عثمان بن ابو سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دومۃ الجندل کے حکمراں اکیدر کی جانب بھیجا۔ وہ ان کو گرفتار کر کے آپ کے پاس لائے تو آپ نے اس کے خون کو تحفظ فراہم کیا اور اس سے جزیہ پر مصالحت کر لی۔

تشریح

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تبوک سے, وہاں غزوہ کے دونوں میں اپنى موجودگى کے دوران, خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک سریہ کے ساتھ اکیدر کی جانب بھیجا۔ تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس کے قلعے کو فتح کر لیا نیز اسے لے کر مدینہ پہنچے، لیکن رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا، بلکہ اس پر جزیہ نافذ کرکے اسے اس کے وطن واپس کر دیا، حالانکہ وہ اہل عرب میں سے تھا۔

تشریح: العربية

بعث النَّبي صلى الله عليه وسلم خالد بن الوليد من تبوك في سرية لما كان هناك في أيام الغزوة إلى أكيدر، فأسره وفتح حصنه، وعاد به إلى المدينة، فردَّه النَّبي صلى الله عليه وسلم إلى بلاده، وضرب عليه الجزية، مع كونه من العرب، ولم يكرهه على الإسلام.

  • الحديث من أدلة أصل مشروعية أخذ الجزية من الكفار بشرطها، ولو كانوا من غير أهل الكتاب والمجوس.
  • جواز أخذ الجزية من خصوص كفرة العرب.
  • عدم الإكراه على الإسلام حيث لم يكره النبي -صلى الله عليه وسلم- أكيدر على الإسلام وأقره على الجزية.
  • جواز عقد الصلح مع الكفار.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید