حدیث

اسلام سر بلند رہتا ہے اور مغلوب نہیں ہوتا

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائذ بن عمرو المزني رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الإسلام يَعْلُو ولا يُعْلَى».

ترجمہ

عائذ بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اسلام سر بلند رہتا ہے اور مغلوب نہیں ہوتا"۔

تشریح

اس حدیث میں اسلام کا ایک عظیم ترین قاعدہ بتایا گيا ہے۔ وہ قاعدہ یہ ہے کہ اللہ نے اسلام کے لیے رفعت و سربلندی لکھ دی ہے اور اس کے ماننے والے اس وقت تک سربلند اور اچھی حالت میں رہیں گے، جب تک اسلام کو مضبوطی سے تھامے رہیں گے۔ اس طرح، سربلندی کے لیے اسلام کو مضبوطی سے تھامے رکھنا شرط ہے۔ حدیث کا یہ جملہ اگر چہ خبریہ ہے، لیکن ہے امر کے معنی میں، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {ولا تهنوا ولا تحزنوا وأنتم الأعلون إن كنتم مؤمنين} (تم نہ کمزور پڑو اور نہ غمگين ہو۔ تم ہی غالب رہوگے اگر ایمان دار ہو)۔ یہ حدیث تمام احوال کے لیے عام ہے اور فقہا نے اس سے بہت سے مسائل اور فروعات میں استدلال کیا ہے۔ اس کی ایک مثال جزیہ کا باب ہے، کیونکہ ذمی جب جزیہ ادا کرکے ہمارے بیچ رہیں گے، تو انھیں کھلم کھلا ناقوس بجانے اور صلیب قائم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ان کى عمارتیں مسلمانوں کى عمارتوں سے اونچى بنائی جائیں گى۔ اس کی دوسری مثال یہ ہے کہ اگر غیر مسلم والدین میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے، تو بچہ دونوں میں سے جو بہتر دین کا حامل ہو یعنی مسلمان کے تابع ہوگا۔ اسی طرح کسی مسلمان عورت کا نکاح کافر سے نہيں ہو سکتا۔ علی ہذا القیاس، ہر وہ حکم جس سے اسلام کی سر بلندی جھلکتی ہو، وہی مقدم ہوگا۔

تشریح: العربية

هذا الحديث قاعدة عظيمة من قواعد الإسلام، وهي أن هذا الدين قد كتب الله له الرفعة والعلو، وأن أهله لا يزالون في علو ومكانة حسنة ما داموا متمسكين به، فهذا شرط ذلك، وهو خبر بمعنى الأمر، كما قال تعالى : (ولا تهنوا ولا تحزنوا وأنتم الأعلون إن كنتم مؤمنين)، والحديث عام في جميع الأحوال، ويستدل به الفقهاء في فروع ومسائل كثيرة، ومنها باب الجزية، فإن أهل الذمة إذا دفعوا الجزية وكانوا بين أظهرنا فإنهم لا يُمكنون من إظهار نواقيسهم وصلبانهم ولا تعلو بنيانهم بنيان المسلمين، وإذا أسلم أحد الزوجين تبع الولد خير أبويه دينًا وهو من كان مسلمًا، ولا تزوج المسلمة للكافر، وهكذا كل حكم ترتب عليه علو شأن الإسلام فهو المقدم.

  • أنَّ الإسلام يعلو، ولا يُعلى عليه، وهو الدين الذي أراد الله -تعالى- أن يظهره على الدين كله، فنحن بعملنا ننفذ إرادة الله -تعالى- الشرعية.
  • أنه يجب على الذميين التزام أحكام الإسلام فيما يعتقدون تحريمه؛ كالزنا والسرقة، دون ما يعتقدون حله كالخمر.
  • يجب عليهم التميز عن المسلمين في قبورهم، فلا يدفنون مع المسلمين.
  • يجب عليهم التميز عن المسلمين بلباس خاص يُعرفون به.
  • لا يجوز تصديرهم في المجالس، ولا القيام لهم عند قدومهم.
  • يُمنعون من إحداث الكنائس والبِيع والمعابد، وبناء ما انهدم منها، أو تجديد ما خرب من أجزائها.
  • يُمنعون من إظهار خمرٍ وخنزيرٍ، ومن الجهر بنواقيسهم، والجهر بقراءة كتبهم.
  • يمنعون من تعلية مبانيهم السكنية على مساكن المسلمين، سواء ملاصقة، أو مقاربة، وهذا كله من مقتضى علو الإسلام عليهم.
  • كره العلماء أن يكون المسلم خادمًا عند الكافر بمقتضى هذا الحديث.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید