ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن ابن أبي عَمَّار قال: قلت لجابر: الضَّبْع صَيْدٌ هي؟ قال: «نعم»، قال: قلتُ: آكُلُها؟ قال: «نعم»، قال: قلتُ له: أَقَالَهُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قال: «نعم».
ترجمہ
ابن ابو عمار سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا لکڑ بگھا شکار ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں! وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا میں اسے کھاوں؟ جواب دیا: ہاں! وہ کہتے ہیں میں نے پوچھا: کیا یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے؟ جواب دیا: ہاں۔
تشریح
ابن ابو عمار نامی تابعی نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے لکڑ بگھا کے بارے میں پوچھا کہ کیا اس کا شکار کرنا اور اسے کھانا جائز ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں جائز ہے۔ ابن ابو عمار نے جابر رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا کہ کیا یہ فتوی انھوں نے اپنی رائے سے دیا ہے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو بتایا کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
تشریح: العربية
سأل التابعي ابن أبي عمار رحمه الله جابرَ بن عبد الله رضي الله عنهما عن حكم الضبع، وهل يجوز صيدها وأكلها؟ فأجابه بأن ذلك جائز، ثم استفهم ابن أبي عمار من جابر عن هذه الفتوى هل هو شيء قاله برأيه، أو سمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ فأخبره بأنه سمع ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم .
- حل أكل الضبع, وأنه صيد، والصيد مباح، فهو مخصص من حديث تحريم كل ذي ناب من السباع.
- أنه يجوز للإنسان أن يسأل العالم الذي هو أعلم منه عن الدليل.
- ينبغي أن يكون هم الإنسان البحث عن معرفة حدود الله -تعالى- وأحكامه والتزامها.