ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن ابن عمر رضي الله عنهما ، قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الجَلَّالَة في الإبِل: أنْ يُرْكَبَ عليها، أو يُشْرَب مِن أَلْبَانِها".
ترجمہ
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جلالہ یعنی گندگی کھانے والے اونٹ پر سوار ہونے اور اس کا دودھ پینے سے منع کیا ہے۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جلالہ یعنی گندگی کھانے والے اونٹ پر سوار ہونا اور اس کا دودھ پینا منع ہے۔ ویسے اس میں اس کا گوشت کھانے کی ممانعت بھی شامل ہے، جیسا کہ دوسری حدیثوں سے ثابت ہے۔ یاد رہے کہ اس حدیث میں جو ممانعت آئی ہے، وہ صرف اونٹ کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ اس کے ضمن میں وہ سارے ماکول اللحم جانور اور پرندے آ جاتے ہیں، جو گندگیاں اور نجاستیں کھاتے ہیں، اگر ان کا زیادہ تر گزارہ اسی سے ہوتا ہو تو، کیونکہ ان کا گوشت، دودھ اور پسینہ چوں کہ نجاست کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے، اس لیے وہ نجس ہوگا۔ ہاں! اگر اس کے بعد لگاتار تین یا اس سے زیادہ دنوں تک پاک چیزیں کھلائی جائیں، تو ممانعت ختم ہو جائے گی۔
تشریح: العربية
أفاد الحديث النَّهي عن ركوب الجلاَّلة من الإبل، والنهي عن شرب لبنها، -وهو متضمن للنهي عن أكل لحومها كما ورد في الأحاديث الأخرى-، والنهي في الحديث ليس خاصًّا بجنس الإبل بل هو عام في كل ما يتغذى على النجاسات والعذرات من الحيوان والطيور المأكولة -إن كان أكثر علفها من ذلك- ؛ لأنَّ لحمها ولبنها وعرقها صارت متولدات من النجاسة، فهي نجسة، إلا إذا غذيت بعد ذلك بطاهر ثلاثة أيام فأكثر، فيرتفع المنع حينئذ.
- تحريم أكل لحوم الجلاَّلة، وشرب لبنها؛ لأنَّ لحمها ولبنها وعرقها يصير بذلك متولدًا من النجاسة، إلى أن تحبس وتطعم من العلف الطاهر ثلاثة أيام فأكثر.
- النهي عن الركوب على الجلالة؛ والعلة في ذلك أنها قد تعرق فتلوث ما عليها بعرقها.