حدیث

جب تم کسی شکار پر تیر چلاو اور وہ غائب ہو جائے اور پھر بعد میں ملے، تو اسے کھاو، جب تک اس میں بد بو نہ آ جائے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي ثعلبة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ، فغابَ عنْك، فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْهُ، ما لَمْ يُنْتِنْ».

ترجمہ

ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جب تم کسی شکار پر تیر چلاو اور وہ غائب ہو جائے اور پھر بعد میں ملے، تو اسے کھاو، جب تک اس میں بد بو نہ آ جائے"۔

تشریح

اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ شکاری نے جب شکار پر تیر یا اس کے حکم میں داخل کوئی اور اوزار چلایا، پھر وہ شکار کو لگ گیا، اس کے بعد شکار شکاری کی نظروں سے اوجھل ہو گیا اور بعد میں ملا، تو ایسے میں اگر وہ شکار کے جسم پر اپنے چلائے ہوئے تیر کے نشان کے علاوہ کسی دوسرے قاتل زخم کا نشان نہ پائے، تو اسے کھا سکتا ہے۔ لیکن یہ جواز اس وقت تک ہے، جب تک اس کے اندر بدلاو اور بد بو نہ آ گئی ہو۔ اگر ایسا ہو جائے تو وہ خبائث یعنی گندی چیزوں میں شمار ہوگا اور انسان کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہونے کی وجہ سے اس کو کھانا جائز نہیں ہوگا۔

تشریح: العربية

أفاد الحديث أن الصائد إذا رمى الصيد بسهم ونحو ذلك مما هو في حكم السهم، فأصاب الصيد ثم غاب عن عين الصياد، ووجده بعد ذلك، ولم يجد فيه أثرًا قاتلاً إلاَّ سهمه جاز أكله ما لم يصل إلى مرحلة التغير والنتن؛ لأنه يصير حينئذ من الخبائث، ويضر بصحة الإنسان إذا أكله.

  • يحل أكل الصيد ولو غاب عن صاحبه ما لم يفسد لحمه وتتغير رائحته.
  • نهي المسلم عن أكل ما تعفن من الطعام وتغيرت رائحته.
  • عناية الإسلام بصحة الإنسان وحفظها مما قد يؤثر عليها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید