حدیث

کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ اس پر اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اس پر اللہ کا نام لو اور کھاو"

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها : أنّ قومًا قالوا: يا رسول الله إنّ قومًا يأتوننا باللحم لا نَدري أَذَكروا اسمَ الله عليه أم لا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «سَمُّوا الله عليه وكُلُوه».

ترجمہ

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ اس پر اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اس پر اللہ کا نام لو اور کھاو"۔

تشریح

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ کچھ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ ان کے پاس گوشت کچھ مسلمانوں کے یہاں سے آتا ہے، لیکن ان کے مسلمان ہونے کو زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں، اس لیے ان کے پاس شریعت کے احکام سے واقفیت کی کمی ہوتی ہے، ایسے میں پتہ نہیں ہوتا کہ انھوں نے جانور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں؟ اس پر آپ نے پوچھنے والوں کو حکم دیا کہ کھاتے وقت اللہ کا نام لے کر اسے کھا لیں۔ حدیث کی کچھ روایتوں میں وارد الفاظ "تم خود اللہ کا نام لے لو اور کھاو" سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں ایک طرح سے ان کی ملامت ہے۔ گويا کہ آپ فرما رہے ہیں: اگر ظاہر حلت ہو تو تمھیں دوسرے کے کام کی پروا نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اپنے کام پر دھیان رکھنا چاہیے۔ لہذا، تم خود اللہ کا نام لے لو اور کھاو۔ اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر کوئی یہودی یا نصرانی اپنا ذبح کیا ہوا ذبیحہ لائے، تو اس سے یہ پوچھا نہیں جائے گا کہ اس نے اسلامی طریقے پر ذبح کیا ہے یا نہیں؟ اسے بال کی کھال نکالنا سمجھا جائے گا۔ لیکن اس سے ایسے ذبیحے حلال نہیں ہوتے، جن کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو کہ انھیں ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہيں لیا گیا ہے۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث تخبر عائشة رضي الله عنها أن أُناساً جاءوا إلى النَّبي صلى الله عليه وسلم فسألوه عن هذه اللحوم القادمة من قوم مسلمين، إلاَّ أنَّ عهدهم بالكفر قريب، فيغلب عليهم الجهل، فلا يُعلم هل ذكروا اسم الله عليه عند ذبحه أو لا؟ فأمر النَّبي صلى الله عليه وسلم السَّائلين أنْ يذكروا اسم الله عند أكلها وأن يأكلوا تلك اللحوم، ويظهر من قوله صلى الله عليه وسلم في بعض ألفاظ الحديث: "سَمُّوْا الله أَنْتُمْ وَكُلُوا" أن في هذا نوعاً من اللوم عليهم، كأنه -عليه الصلاة والسلام- يقول: ليس لكم شأن فيما يفعله غيركم، إن كان الظاهر الحل، بل الشأن فيما تفعلونه أنتم، فسمّوا أنتم وكلوا. ومن هذا ما لو قدّم إليك يهودي أو نصراني ذبيحة ذبحها، فلا تسأل أذبحتها على طريقة إسلامية أو لا، لأن هذا السؤال لا وجه له، وهو من التعمّق، وهذا لا يحل الذبائح التي علم وتيقن أنها لم يُذكر عليها اسم الله تعالى .

  • أن ذكر اسم الله -تعالى- على الذبيحة شرط في حل الأكل منها، وإن ترك التسمية نسيانًا أبيحت الذبيحة، وإن تركها عمدا لم تحل الذبيحة، كما في فتاوى اللجنة.
  • أنه إذا كان ظاهر الذابح الإسلام، لا يلتفت إلى الاحتمال بأنه ذبحها على غير اسم الله، أو أنه لا يعرف الحكم، وما أشبه ذلك.
  • سؤال الصحابة عن هذه المسألة المشكلة يدل على ورعهم وتحريهم للحق.
  • وجوب التسمية على الأكل.
  • أنَّ التصرفات تحمل على الصحة والسَّلامة إلى أنْ يقوم دليل الفساد.
  • طعام أهل الكتاب إما أن نعلم أنهم ذكروا اسم الله على ذبائحهم فهي حلال، وإما أن نعلم أنهم ذكروا اسم غير الله فيكون حراما، وإما أن نجهل الأمرين وفي هذه الحال نأخذ بالأصل، وهو حل ذبائحهم، وأما الأطعمة التي لا يتوقف عليها ذبح أو نحر كالخبز فلا إشكال في جواز أكلها.لكن اللحوم المستوردة من البلاد الشيوعية ونحوها ممن ليسوا مسلمين ولا أهل كتاب محرمة؛ لأن ذبائحهم ميتة.
  • أنه لا ينبغي للإنسان أن يضيق على نفسه في الأمور التي أطلقها الشرع, لأن التضييق على النفس يوجب الحرج والمشقة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید