حدیث

جس نے یہ کیا اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ یہ کس نے کیا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح کو نشانہ بناکر تیر اندازی کی مشق کرنے والے پر لعنت کی ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن سعيد بن جبير، قال: مَرَّ ابنُ عمرَ بِفِتيانٍ مِن قريش قد نَصَبُوا طَيْرًا، وهم يَرْمُونَه، وقد جعلوا لصاحِب الطيْرِ كلَّ خاطِئة مِن نَبْلِهم، فلمّا رأَوْا ابنَ عمر تَفَرَّقُوا، فقال ابن عمر: «مَن فعل هذا لَعَنَ الله، مَن فعل هذا؟ إنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم لَعَنَ مَن اتخذَ شيئا فيه الرُّوحُ غَرَضًا»

ترجمہ

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جو ایک پرندے کو نشانے کے طور پر رکھ کے اس پر تیر چلا رہے تھے۔ انھوں نے یہ طے کیا تھا کہ پرندے کے مالک کو نشانے سے چوکنے والے سارے تیر دے دیے جائیں گے۔ لیکن جب عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، تو ادھر ادھر بھاگ گئے۔ اس پر انھوں نے کہا: "جس نے یہ کیا اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ یہ کس نے کیا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح کو نشانہ بناکر تیر اندازی کی مشق کرنے والے پر لعنت کی ہے"۔

تشریح

سعید بن جبیر بتا رہے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جو ایک پرندے کو رکھ کر اس پر تیر چلا رہے تھے کہ ان میں سے کون زیادہ درست نشانے والا ہے؟ جب انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو خوف سے بھاگ گئے۔ انھوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے سب کچھ بتایا تو فرمایا : ایسا کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔ پھر بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح کو نشانہ بنا کر تیر اندازی کی مشق کرنے والے پر لعنت کی ہے۔ لعنت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پرندے کو سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ کوئی اس کے بازو پر تیر چلاتا ہے، کوئی سینے پر چلاتا ہے، کوئی پیٹھ پر چلاتا ہے اور کوئی سر پر چلاتا ہے۔ ایسے میں جب تک مر نہيں جاتا، سخت اذیت میں رہتا ہے۔ حالانکہ اسے ذبح کیا جا سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذی روح کو نشانہ بنانے والے پر لعنت کی ہے۔

تشریح: العربية

يخبر سعيد بن جُبير أن ابن عمر رضي الله عنهما مر بفتيان بقريش وقد وضعوا طائرًا يرمون عليه سهامهم، أيهم أشد إصابة، فلما رأوا عبد الله بن عمر رضي الله عنه تفرقوا هربًا منه، ثم قال: ما هذا؟ فأخبروه، فقال: لعن الله من فعل هذا، وذكر أن النبي صلى الله عليه وسلم لعن من اتخذ شيئا فيه الروح غرضا. وهذا لأنه يتألم إذ أن هذا يضربه على جناحه، وهذا يضربه على صدره، وهذا يضربه على ظهره، وهذا على رأسه فيتأذى إذا لم يمت، وهو مقدور على تذكيته، فلهذا لعن النبي صلى الله عليه وسلم من اتخذ شيئًا فيه الروح غرضًا.

  • أن تعذيب الحيوان من غير سبب شرعي من الكبائر.
  • جواز لعن من اتخذ شيئًا فيه الروح غرضًا.
  • وجوب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر في وقته, وعدم تأخير البيان عن وقت الحاجة.
  • حرمة تضييع المال, لأن الطير إذا مات حرم أكل لحمه.
  • تحريم اللهو الباطل الذي لا يعود على الأمة بفائدة.
  • أن الدين الإسلامي كما يرحم الإنسان يرحم الحيوان.
  • سمو هذه الشريعة وشمولها حيث أوجبت الشفقة على الناس وعلى البهائم, وحرمت كل ما فيه إيذاء أو تعذيب.
  • وجوب الرفق بالحيوان.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید