حدیث

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی جانور کو باندھ کر کسى چیز سے مار مار کر قتل کرنے سے منع کیا ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن جابر بن عبد الله قال: «نَهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أنْ يُقتل شيء مِن الدَّواب صَبْرا».

ترجمہ

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی جانور کو باندھ کر کسى چیز سے مار مار کر قتل کرنے سے منع کیا ہے"۔

تشریح

اس حدیث میں جانوروں بلکہ کسی بھی ذی روح کو قید میں رکھ کر مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کے اندر غیر شرعی طریقے سے مار کر تلف کرنا بھی شامل ہے۔ مثال کے طور پر نشانہ بناکر تیر اندازی کرنا وغیرہ۔ کیونکہ اس میں جانور کو عذاب دینا، اس کی جان کو تلف کرنا، اس کی مالیت کو ضائع کرنا اور شرعی طور پر ذبح نہ کرنا جیسے مفاسد پائے جاتے ہيں۔ ان مفاسد کے ساتھ ساتھ چونکہ یہ ایک بے سود قتل ہے، اس لیے شریعت نے اس سے منع کیا ہے اور حدیث میں وارد نہی کا صیغہ حرمت کا تقاضا کرتا ہے۔ شریعت اسلامی کا اس طرح انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اور پرندوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کا برتاو روا رکھنا، اس کی عظمت اور اس کی تعلیمات کی ہمہ گیری کا بین ثبوت ہے۔

تشریح: العربية

الحديث ينهى عن صبر الدواب، وكل ذي روحٍ، وذلك بأنْ يُحبس ويُقتل، ومن ذلك إتلافه بقتلة غير شرعية، كأنْ يجعل هدفًا للرمي، ففي ذلك تعذيبٌ للحيوان، وإتلافٌ لنفسه، وإضاعة لماليته، وتفويتٌ لذكاته الشرعية، فلهذه المفاسد، ولعدم الفائدة من قتله، نهي عن صبره، والنَّهي يقتضي التحريم، وفي ذلك سمو الشريعة الإسلامية وشمول تعاليمها وآدابها، حيث أوجبت الشفقة على الناس وعلى البهائم والطيور.

  • تحريم قتل أي حيوان صبرًا وهو إمساكه حيا ثم يرمى حتى يموت.
  • أن الحيوان المأكول المقدور على ذبحه لا يحل رميه, بل لا بد من تذكيته.
  • سمو الشريعة الإسلامية وشمول تعاليمها وآدابها, حيث أوجبت الشفقة على الناس وعلى البهائم والطيور.
  • النهي عن إضاعة المال لأن قتل الدواب صبرًا إضاعة للمال، إذ إنها لا تحل بهذا القتل, إذا كانت مما يؤكل فتضيع ماليتها, وإن كانت مما لا يؤكل كالحمير ضاعت ماليتها أيضًا فينهى عن ذلك.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید