حدیث

بچہ اپنے عقیقے کے بدلے میں گروی رکھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کی جانب سے ساتویں دن جانور ذبح کیا جائے گا، اس کا نام رکھا جائے گا اور اس کا سر مونڈا جائے گا

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «الغلام مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ يُذْبَحُ عنه يوم السابع، ويُسَمَّى، ويُحْلَق رأسه».

ترجمہ

سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "بچہ اپنے عقیقے کے بدلے میں گروی رکھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کی جانب سے ساتویں دن جانور ذبح کیا جائے گا، اس کا نام رکھا جائے گا اور اس کا سر مونڈا جائے گا"۔

تشریح

اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے میں محبوس ہوتا ہے۔ اس کی جانب سے اس کی ولادت کے ساتویں دن جانور ذبح کیا جائے گا۔ اسی دن اس کا نام رکھنا اور اس کے سر کے بال مونڈنا بھی سنت ہے۔ یاد رہے کہ بال مونڈنے کی بات لڑکے کے ساتھ خاص ہے۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث يخبر النبي صلى الله عليه وسلم أن المولود يكون محبوساً بعقيقته تذبح عنه في اليوم السابع من ولادته، ويُستحب في نفس اليوم تسمية المولود، وحلق شعر رأسه، والحلق خاص بالمولود الذكر.

  • أن قوله "مرتهن بعقيقته" يدل على تأكيد هذه الشعيرة، وأنَّه لا ينبغي إهمالها، فمن أحياها، فقد أحيا سنَّة أمر بها النَّبي -صلى الله عليه وسلم-، وعمل بها.
  • معنى ارتهان الغلام بعقيقته أنها لازمة لزوم الرهن في يد المرتهن.
  • أن وقت ذبح العقيقة هو اليوم السابع استحبابًا لا وجوبًا.
  • أن تسمية المولود تكون في اليوم السابع.
  • مشروعية حلق رأس المولود في اليوم السابع.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید