حدیث

نذر کا کفارہ وہی ہے، جو قسم کا ہے"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضيَ اللهُ عنه عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ اليَمِينِ».

ترجمہ

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نذر کا کفارہ وہی ہے، جو قسم کا ہے"۔

تشریح

نبی ﷺ نے واضح فرمایا کہ جب مطلق نذر میں کسی چیز کو متعین نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اس کا ذکر کیا گیا ہو، تو اس کا کفارہ وہی ہے، جو قسم کا ہے۔

فوائد

  • نذر کی شرعی تعریف: کسی با اختیار مکلف شخص کا اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز لازم کرلینا۔
  • قسم کا کفارہ: دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انھیں لباس دینا یا ایک غلام آزاد کرنا، البتہ اگر استطاعت نہ ہو تو تین روزے رکھے۔
  • کفارہ کی حکمت یہ ہے کہ مسلمان نذر کا احترام کرے، اس سے روگردانی نہ کرے اور اسے اپنی زبان کا معمول نہ بنا لے۔
  • نذر کی اقسام: 1. نذر مطلق: مثلاً کوئی یوں کہے: (اگر مجھے شفا مل گئی تو مجھ پر اللہ کے لیے ایک نذر ہے۔) یہ کہہ کر وہ خاموش ہو جائے اور کسی متعین نذر کی نیت نہ کرے۔ تو شفا ملنے پر اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔ 2. نذرِ لجاج وغضب: یہ وہ نذر ہے جسے کسی شرط پر معلق کیا جائے اور اس سے مقصود کسی کام سے روکنا ہو یا کسی کام پر ابھارنا ہو۔ مثلاً کوئی یوں کہے: (اگر میں نے تم سے بات کی تو مجھ پر ایک مہینے کے روزے لازم ہوں گے) اس کا حکم یہ ہے کہ اسے اختیار ہے کہ یا تو وہ اپنی مانی ہوئی نذر پوری کرے یا پھر (اگر وہ شرط توڑ دے تو) قسم کا کفارہ ادا کر دے۔ 3. نذرِ مباح: مثلاً: (مجھ پر اللہ کے لیے لازم ہے کہ میں اپنا کپڑا پہنوں۔) اس کا حکم یہ ہے کہ اسے کپڑا پہننے یا قسم کا کفارہ ادا کرنے کا اختیار ہے۔ 4. نذرِ مکروہ: مثلاً: (مجھ پر اللہ کے لیے لازم ہے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دوں۔) اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے لیے مسنون یہ ہے کہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرے اور اپنی مانی ہوئی نذر پر عمل نہ کرے۔ اور اگر وہ اس (مکروہ کام) کو کر لیتا ہے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔ 5. نذرِ معصیت: مثلاً: (مجھ پر اللہ کے لیے لازم ہے کہ میں چوری کروں۔) اس کا حکم یہ ہے کہ اسے پورا کرنا حرام ہے اور وہ قسم کا کفارہ ادا کرے۔ اگر وہ اس (گناہ) پر عمل کر لیتا ہے تو وہ گناہ گار ہوگا اور اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔ 6. نذرِ طاعت: مثلاً: (مجھ پر اللہ کے لیے لازم ہے کہ میں اتنی نماز پڑھوں۔) اور اس کا مقصد اللہ کی نزدیکی حاصل کرنا ہو۔ اگر وہ اسے کسی شرط پر معلق کرے، جیسے مریض کا شفا یاب ہونا، تو شرط پوری ہونے پر اس نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔ اور اگر اسے کسی شرط پر معلق نہ کرے تو اسے مطلقاً پورا کرنا واجب ہے۔
تشریح: العربية

بيَّن النبي صلى الله عليه وسلم أن كفارة النذر المطلق إذا لم يُحدَّد فيما يريد منه ولم يسمِّه: هي كفارة اليمين.

  • النذر: شرعًا: إلزام مكلَّف مختارٍ نفسَهُ شيئًا لله تعالى.
  • كفارة اليمين: إطعام عشرة مساكين أو توفير كسوة لهم من ثياب أو تحرير مملوك من الرق، فإن لم يستطع فصيام ثلاثة أيام.
  • الحكمة من الكفارة أن يحترم المسلم النذر فلا يعود فيه، ولا يكون على لسانه.
  • أنواع النذر: 1. النذر المطلق: كقوله: (لله عليَّ نذرٌ إن شُفيتُ) وَسَكَتَ ولم يَنْوِ نذرًا معيّنًا فعليه كفارة يمين عند حصول الشفاء، 2. نذر لجاجٍ وغَضَبٍ: وهو أن يعلِّق النذر بشرطٍ، يقصد المنع من فعل شيء أو الحمل على فعله كقوله: (إن كلَّمتك فعليَّ صيام شهر)، وحكمه: أن يخيَّر بين فعل ما التزم به، أو يكفر كفارة يمين عند تكليمه، 3. نذر مباحٍ: مثل: (لله عَلَيَّ أن ألبس ثوبي)، وحكمه: يخير بين لبس الثوب، أو كفارة يمين، 4. نذر مكروهٍ: مثل: (لله عَلَيَّ أن أطلق زوجتي)، وحكمه: تسنُّ له كفارة يمين ولا يفعل ما نذر، وإن فعله فلا كفارة عليه، 5. نذر معصيةٍ: مثل: (لله عليَّ أن أسرق) وحكمه: يحرم الوفاء به ويكفر كفارة يمين، وإن فعل أثِمَ ولا كفارة عليه، 6. نذر طاعةٍ: مثل: (لله عليَّ أن أصلي كذا) بقصد التقرب لله، فإن علَّقه بشرطٍ كشفاءِ مريض وجب الوفاء به إن حصل الشرط، وإن لم يُعَلِّقه وجب الوفاء مطلقًا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید