حدیث

’’وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، جس نے اپنے معاملات کی ذمہ داری کسی عورت کو سونپ دی ہو۔‘‘

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه البخاري

عربی متن

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً».

ترجمہ

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، جس نے اپنے معاملات کی ذمہ داری کسی عورت کو سونپ دی ہو۔‘‘

تشریح

اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جو اپنے معاملات کی باگ ڈور کسی عورت کو تھما دے، چاہے وہ قضا کا معاملہ ہو، عمومی حکمرانی ہو یا کوئی وزارت۔

فوائد

  • عورتیں امارت اور لوگوں کے درمیان قضا، اور اس طرح کی دیگر عمومی ولایتوں کی ذمہ دار نہیں بن سکتیں، البتہ خصوصی امور جیسے وقف یا یتیموں کی سرپرستی یا کسی مدرسے کا انتظام وغیرہ سنبھالنے میں کوئی حرج نہیں۔
  • عورت کی کمزوری اور کمی کا بیان کہ وہ عمومی ولایتوں میں مرد کی شریک نہیں ہوسکتی، اور اس کا اس طرح کے منصب پر فائز ہونا نا کامی ونا مرادی کا سبب ہے۔
  • اللہ نے عورت کو پیدا فرمایا اور اس کی فطرت کو مرد کی فطرت سے مختلف بنایا ہے۔ چنانچہ کچھ امور ایسے ہیں جنہیں عورت کا انجام دینا اس کی مخصوص فطرت کے باعث مناسب نہیں، ۔اسی طرح کچھ امور ایسے ہیں جنہیں مرد کا انجام دینا اس کی مخصوص فطرت کے باعث مناسب نہیں ہے۔
  • منفی فلاح: فلاح شریعت کی اصطلاح میں دنیا وآخرت کی خیر وبھلائی کا حصول ہے، سلطنت کی خوشحالی سے یہ لازم نہیں آتا کہ قوم اللہ کی رضامندی پر ہو، جو شخص اللہ کی اطاعت میں نہیں، تو وہ فلاح پانے والوں میں سے نہیں ہے، اگرچہ وہ بظاہر اپنے دنیاوی معاملات میں بظاہر بہترین حالت میں ہی کیوں نہ ہو۔
  • اس حدیث میں عورت کی تنقیص نہیں ہے، بلکہ یہ اس کی صلاحیتوں کی صحیح اور مناسب توجیہ ہے۔
تشریح: العربية

بيَّن النبي صلى الله عليه وسلم أنه لن يظفر قوم بما يطلبون إذا وَلَّوا وملَّكوا المرأةَ أمرَهم من قضاء أو ولاية عامة أو وزارة.

  • النساء لا يلين الإمارة ولا القضاء بين الناس، ونحو ذلك من الولايات العامة، أما الأمور الخاصة كولاية وقف أو يتامى أو إدارة مدرسة ونحو ذلك فلا بأس.
  • بيان قصور ضعف المرأة، وأنها لا تشارك الرجل في الولايات العامة، وأن توليها مثل ذلك سبب لعدم الفلاح.
  • خلق الله المرأة، وجعل لها طبيعة تختلف عن طبيعة الرجل، فثمّة أمور لا يصلح أن تقوم بها المرأة؛ نظرًا لطبيعتها الخاصة، وكذلك ثمة أمور لا يصلح أن يقوم بها الرجل؛ نظرًا لطبيعتها الخاصة.
  • الفلاح المنفي: هو الفلاح في لسان الشرع، وهو تحصيل خير الدنيا والآخرة، ولا يلزم من ازدهار الملك أن يكون القوم في مرضاة الله، ومن لم يكن في طاعة الله، فليس من المفلحين، ولو كان في أحسن حال فيما يبدو من أمر دنياه.
  • ليس في هذا الحديث انتقاص للمرأة، ولكنه توجيه لقدراتها التوجيه الصحيح المناسب لها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید