حدیث

جس آدمی نے کسی مسلمان کو آزاد کیا، اللہ اس آزاد کردہ غلام کے ہر ایک عضو کے بدلے میں اس کے کسى ایک عضو کو آگ سے بچائے گا

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم : «أَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ امْرَأً مسلمًا، استَنْقَذَ الله بكلِّ عُضْوٍ منه عُضْوا منه مِن النار».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جس آدمی نے کسی مسلمان کو آزاد کیا، اللہ اس آزاد کردہ غلام کے ہر ایک عضو کے بدلے میں اس کے کسى ایک عضو کو آگ سے بچائے گا"۔

تشریح

اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی غلام کو آزاد کرکے غلامی سے نجات دلانے کی فضیلت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ یہ ایک اہم ترین عبادت، اللہ کی نزدیکی حاصل کرنے کا عظیم ترین ذریعہ اور آگ سے نجات حاصل کرنے کا بڑا اہم سبب ہے۔ جب کوئی انسان کسی غلام کو آزاد کرتا ہے، تو اللہ کے یہاں اس کا صلہ یہ ہے کہ اللہ اسے آگ سے آزاد کر دے، کیونکہ اللہ بدلہ اسی نوع کا دیتا ہے، جس نوع کا عمل انسان کرتا ہے۔ غلام آزاد کرنے والے کو آگ سے آزاد اس لیے کیا جاتا ہے، کیونکہ غلام معدوم کے حکم میں ہوتا ہے۔ چنانچہ اسے اپنے بارے میں تصرف کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اور اس کے بارے میں کچھ اسی طرح کا تصرف کیا جاتا ہے، جو جانوروں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ لہذا، اس کو غلامی سے نجات دلانا عدم سے وجود میں لانے کے مرادف ہے، کیونکہ آزادی کے بعد وہ غلامی کے ضرر سے محفوظ ہو جاتا ہے، اپنے منافع کا خود مالک بن جاتا ہے، احکام کی تکمیل کا اختیار حاصل کرلیتا ہے، اپنے نفس کے بارے میں تصرف کی قدرت پا لیتا ہے اور شریعت کے دائرے میں رہ کر اپنے ارادے اور اختیار کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل کر لیتا ہے۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث يخبر أبو هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم بيّن فضل عتق الرقاب وتخليصها من الرق، وأن هذا من أجَلِّ الطاعات وأعظم القربات، ومن أسباب العتق من النار، إذا أعتق هذا الرقيق لله تعالى ، فكان جزاؤه أن يعتقه الله من النار، لأن المجازاة تكون من جنس الأعمال، فجوزي المعتق للعبد بالعتق من النار، وهذا -والله أعلم- لكون الرقيق في حكم المعدوم إذ لا تصرف له في نفسه، وإنما يُتصرف فيه كما يُتصرف في الدابة، فكان عتقه كإخراجه من العدم إلى الوجود، لما في عتقه من تخليصه من ضرر الرق، وملك نفسه منافعه وتكميل أحكامه وتمكنه من التصرف في نفسه وشؤون حياته على حسب إرادته واختياره في حدود الشرع.

  • أن عتق الرقبة المسلمة فضله عظيم, لما يحصل في عتق المؤمن من المنافع العظيمة كالجهاد والشهادة والمعونة على إقامة شرائع الدين.
  • أن إعتاق كامل الأعضاء أفضل من عتق ناقصها, ليحصل الاستيعاب المستفاد من قوله: "استنقذ الله بكل عضو منه عضوًا منه من النار".

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید