حدیث

اے اللہ کے رسول! میں نے ہر چھوٹے بڑے گناہ کا ارتکاب کر لیا۔ آپ نے فرمایا: "کیا تم یہ گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں؟

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو يعلى والطبراني والضياء المقدسي

عربی متن

عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا تَرَكْتُ حَاجَّةً وَلَا دَاجَّةً إِلَّا قَدْ أَتَيْتُ، قَالَ: «أَلَيْسَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ؟» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنَّ ذَلِكَ يَأْتِي عَلَى ذَلِكَ».

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ہر چھوٹے بڑے گناہ کا ارتکاب کر لیا۔ آپ نے فرمایا: "کیا تم یہ گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں؟" تین دفعہ آپ نے یہ سوال کیا۔ اس شخص نے جواب دیا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: "یہ شہادت ان گناہوں کو مٹا دیتی ہے"۔

تشریح

ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ہر طرح کے گناہ کر ڈالے ہيں۔ کوئی صغیرہ اور کبیرہ گناہ مجھ سے نہیں چھوٹا ہے۔ کیا میری مغفرت ہو سکے گی؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: کیا تم یہ گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں؟ آپ نے تین دفعہ یہ سوال دہرایا۔ اس شخص نے جواب دیا: ہاں! میں یہ گواہی دیتا ہوں۔ تو اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادتین کی فضیلت بتلائی اور یہ بتایا کہ اس شہادت سے گناہ مٹ جاتے ہیں اور توبہ اپنے ماقبل کے تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔

فوائد

  • اس حدیث سے شہادتین کی عظمت شان معلوم ہوتی ہے اور یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جو شخص اپنے دل سے صدق نیتی کے ساتھ اس کی گواہی دیتا ہے، اس کی گواہی اس کے گناہوں پر حاوی ہو جاتی ہے۔
  • اسلام اپنے ماقبل کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
  • سچی توبہ سے سابقہ گناہ مٹ جاتے ہیں۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ آپ تعلیم دینے کے لیے ایک بات کو کئی دفعہ دہرایا کرتے تھے۔
  • اس حدیث سے شہادتین کی فضیلت معلوم ہوتی ہے اور یہ کہ شہادتین جہنم کی دائمی سزا سے نجات کا ذریعہ ہے۔
تشریح: العربية

جاء رجلٌ إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، إني قد فعلت من كل الذنوب والمعاصي، ولم أترك صغيرة ولا كبيرة إلا فعلتها، فهل يُغفَر لي؟ فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ألست تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدًا رسول الله؟ كررها له ثلاث مرات، فأجابه: نعم أشهد، فأخبره النبي صلى الله عليه وسلم بفضل الشهادتين وتكفيرها للسيئات، وأن التوبة تجب ما قبلها.

  • عِظم الشَّهادتين ورُجحانها على الذّنوب لمن قالها صادقًا من قلبه.
  • الإسلام يجُبُّ ما قبله.
  • التّوبة الصّادقة تمحو ما قبلها.
  • التّكرار في التّعليم مِن هدي النبي صلى الله عليه وسلم.
  • فضل الشهادتين، وأنهما سبب للنجاة من الخلود في النار.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید