حدیث

جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، و ہ جہنم میں داخل ہو گا۔‘‘

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ فَقَالَ: «مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ»

ترجمہ

جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک آدمی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول ! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: ’’جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، و ہ جہنم میں داخل ہو گا۔‘‘

تشریح

ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی دو باتوں کے بارے میں پوچھا، جن میں سے ایک دخول جنت کو واجب کر دیتی ہے اور دوسری دخول جہنم کو واجب کردیتی ہے- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جنت کو واجب کرنے والی بات یہ ہے کہ انسان کی موت اس حال میں ہو کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہو۔ جب کہ جہنم کو واجب کرنے والی بات یہ ہے کہ انسان کی موت اس حال میں ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو۔ چنانچہ اللہ کی الوہیت، اس کی ربوبیت یا اس کے اسماء و صفات میں کسی کو شریک اور ہم مثل قرار دیتا ہو۔

فوائد

  • اس حدیث سے توحید کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص ایمان کی حالت میں اور کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتے ہوئے وفات پائے، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
  • نیز شرک کی سنگینی بھی معلوم ہوتی ہے اوریہ پتہ چلتا ہے کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرے، وہ جہم میں داخل ہوگا۔
  • گناہ گار موحد بندے اللہ کی مشیت کے ما تحت ہوں گے۔ اگر اللہ چاہے گا تو انہیں عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو معاف کردے گا پھر ان کی جاے قرار جنت ہوگی۔
تشریح: العربية

سأل رجل النبي صلى الله عليه وسلم عن الخصلتين: التي توجب دخول الجنة، والتي توجب دخول النار؟ فأجابه صلى الله عليه وسلم: أن الخصلة التي توجب الجنة أن يموت الإنسان وهو يعبد الله وحده ولا يشرك به شيئًا، وأن الخصلة التي توجب النار أن يموت الإنسان وهو يشرك بالله شيئًا فيجعل لله ندًا ومثيلًا في ألوهيته أو ربوبيته أو أسمائه وصفاته.

  • فضل التوحيد وأن من مات مؤمنًا لا يشرك بالله شيئًا دخل الجنة.
  • خطر الشرك، وأن من مات يشرك بالله شيئا دخل النار.
  • عصاة الموحدين تحت مشيئة الله إن شاء عذبهم وإن شاء غفر لهم، ثم مصيرهم إلى الجنة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید