ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: جاءَ رجُلُ إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسولَ اللهِ، إن أحدنا يجدُ في نفسِهِ -يُعرِّضُ بالشَّيءِ- لأَن يكونَ حُمَمَةً أحَبُّ إليه من أن يتكلَّم بِهِ، فقال: «اللهُ أكبرُ، اللهُ أكبرُ، الحمدُ لله الذي ردَّ كيدَه إلى الوسوسَةِ».
ترجمہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ہمارے دل میں کچھ خیالات آتے ہیں۔ -وہ اشارے کنایے میں بات کر رہا تھا- ان خیالات کو زبان پر لانے کی بجائے کوئلہ ہو جانا اسے زیادہ پسند ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ساری تعریف اس اللہ کی، جس نے اس (ابلیس) کے مکر کو وسوسے کی طرف پھیر دیا۔“
تشریح
ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے دل میں کوئی ایسا خیال آتا ہے، جسے زبان پر لانا اس قدر سنگین محسوس ہوتا ہے کہ اسے زبان پر لانے کی بجائے اسے راکھ ہوجانا زیادہ پسند ہوتا ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ اکبر کہا اور اللہ کی حمد وثنا بیان کی کہ اس نے شیطانی سازش کو محض وسوسہ میں تبدیل کر دیا۔
فوائد
- اس حدیث میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ شیطان مؤمنوں کی گھات میں رہتا ہے، تاکہ انہیں ایمان سے کفر کی طرف پھیر دے۔
- اہل ایمان کے سامنے شیطان کی کمزوری کا بیان کہ اہل ایمان کو شیطان صرف وسوسہ میں ہی ڈال سکتا ہے۔
- مومن کو چاہیے کہ شیطانی وسوسوں سے اعراض برتے اور انہیں اپنے ذہن ودل سے دور رکھے۔
- پسندیدہ چیز پر اللہ اکبر کہنا، اس پر تعجب کا اظہار کرنا یا اسی قسم کا دیگر رد عمل ظاہر کرنا مشروع ہے۔
- ہر مشکل امر سے متعلق عالم سے سوال کرنا مشروع ہے۔
تشریح: العربية
جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، إن أحدَنا يجد في نفسه أمرًا يَعْرِض في النَّفس ولكنَّ الكلامَ فيه عظيم، لِدَرجة أن يكون رَمادًا أحبّ إليه مِن أن يتكلَّم به، فكبَّر الرسول صلى الله عليه وسلم مرتين وحمِد الله أن ردَّ كيد الشَّيطان إلى مجرَّد الوسوسة.
- بيان أن الشيطان يتربَّص للمؤمنين بالوسوسة؛ ليردَّهم من الإيمان إلى الكفر.
- بيان ضعف الشيطان مع أهل الإيمان حيث لم يقدر إلا على الوسوسة.
- المؤمن ينبغي عليه الإعراض عن وساوس الشيطان ودفعها.
- مشروعية التكبير عند الشيء المستحسن أو العجب منه أو ما شابهه من الأمور.
- مشروعية سؤال المسلم للعالم عن كل ما يُشكِل عليه.