حدیث

اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مُٹھی میں لے گا اور آسمان کو داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور اس کے بعد کہے گا : میں بادشاہ ہوں؛ زمین کے بادشاہ کہاں گئے؟

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَقْبِضُ اللَّهُ الأَرْضَ، وَيَطْوِي السَّمَوَاتِ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا المَلِكُ، أَيْنَ مُلُوكُ الأَرْضِ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: "اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مُٹھی میں لے گا اور آسمان کو داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور اس کے بعد کہے گا : میں بادشاہ ہوں؛ زمین کے بادشاہ کہاں گئے؟"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کے دن اللہ زمین کو سمیٹ کر اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور اسے ختم اور فنا کر دے گا اور پھر کہے گا : میں ہی بادشاہ ہوں! زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟

فوائد

  • اس بات کی یاد دہانی کہ اللہ کی بادشاہت باقی رہے گی اور دوسروں کی بادشاہت ختم ہو جائے گی۔
  • اللہ کا جلال، عظیم طاقت، دبدبہ اور مکمل بادشاہت۔
تشریح: العربية

أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ الله تعالى يوم القيامة يقبض الأرضَ ويجمعُها، ويَطوي السماءَ بيمينه ويلفّ بعضَها فوق بعض ويذهب بها ويفنيها، ثم يقول: أنا المَلك، أين ملوك الأرض؟!

  • التذكير بأنَّ مُلْكَ الله هو الباقي ومُلْكُ غيرِه زائل.
  • جلال الله وعظمة قدرته وسلطانه وتمام ملكه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید