ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ طَاوُسٍ أَنَّهُ قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُونَ كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رضي الله عنهما يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، حَتَّى الْعَجْزِ وَالْكَيْسِ، أَوِ الْكَيْسِ وَالْعَجْزِ».
ترجمہ
طاوس سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے متعدد صحابہ کو پایا، وہ سب کے سب یہ کہتے تھے کہ ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے اور میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ’’ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے، یہاں تک کہ (کسی کام کو) نہ کر سکنا اور کر سکنا بھی۔ یا پھر یہ کہا کہ (کسی کام کو) کر سکنا اور نہ کر سکنا بھی۔‘‘
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے۔ یہاں تک کہ عاجزی بھی۔ یعنی جو کام کرنا واجب ہے، اسے ترک کرنا، اس میں ٹال مٹول کرنا اور اسے اس کے وقت سے مؤخر کرنا بھی۔ کام خواہ دنیوی ہو یا اخروی۔ اور یہاں تک کہ چاق و چوبند ہونا بھی، جس کے معنی ہیں، دنیوی اور اخروی امور میں نشاط اور مہارت۔ اللہ عز و جل نے عاجزی، قدرت و نشاط اور ہر ایک چیز کو مقدر فرما رکھا ہے۔ کوئی بھی چیز اللہ کے علم اور مشیت کے بغیر واقع نہیں ہوتی۔
فوائد
- تقدیر کے سلسلے میں صحابۂ کرام کے عقیدے کی وضاحت۔
- ہر ایک چیز اللہ کی (مقرر کردہ) تقدیر کے مطابق سامنے آتی ہے، یہاں تک کہ عاجزی اور قدرت و نشاط بھی۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو منتقل کرنے میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا احتیاط اور بیدار مغزی۔
- بھلی بری ہر تقدیر ہر ایمان رکھنا۔
تشریح: العربية
بيَّن النبي صلى الله عليه وسلم أن كل شيء بقدر؛ حتى العجز وهو: ترك ما يجب فعله والتسويف به وتأخيره عن وقته، بأمور الدنيا والآخرة. وحتى الْكَيْسُ وهو: النشاط والحِذْق بأمور الدنيا والآخرة. وإن الله عز وجل قد قدَّر العجز والكيس وكل شيء، لا يقع في الوجود إلا وقد سبق به علم الله ومشيئته.
- بيان اعتقاد الصحابة رضوان الله عليهم في القدر.
- كل شيء يحصل بقدر الله حتى العجز والنشاط.
- تثبت وحذر الصحابة رضوان الله عليهم في نقل حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم.
- الإيمان بالقدر كله خيره وشره.