حدیث

نبی کریم ﷺ کو ایک سورت ختم ہوکر دوسری سورت شروع ہونے کا علم اس وقت تک نہ ہوتا، جب تک آپ پر «بسم الله الرحمن الرحيم» نہ اترتی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود

عربی متن

عَنِ ‌ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَليهِ وَسَلَّمَ لا يَعْرِفُ فَصْلَ السُّورةِ حَتَّى تَنْزِلَ عَليْهِ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}.

ترجمہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کو ایک سورت ختم ہوکر دوسری سورت شروع ہونے کا علم اس وقت تک نہ ہوتا، جب تک آپ پر «بسم الله الرحمن الرحيم» نہ اترتی۔

تشریح

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنمہا بتا رہے ہیں کہ قرآن کریم کی سورتیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتیں اور آپ کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ ایک سورت ختم ہوکر دوسری سورت کہاں ختم ہو رہی ہے، یہاں تک کہ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) نازل ہوتی، جس سے آپ سمجھ جاتے کہ سابقہ سورت ختم ہوگئی ہے اور ایک نئی سورت شروع ہونے والی ہے۔

فوائد

  • بسم اللہ کے ذریعہ دو سورتوں کے درمیان فاصلہ ڈالا جاتا ہے سوائے سورہ انفال اور سورہ توبہ کے۔
تشریح: العربية

يُبَيِّن ابن عباس رضي الله عنهما أن سور القرآن الكريم كانت تنزل على النبي صلى الله عليه وسلم ولا يَعرف انفصالَها وانتهاءها، حتى تنزل عليه: "بسم الله الرحمن الرحيم"، فيَعلم أن السورة السابقة قد خُتمت، وأنها بداية لسورة جديدة.

  • البسملة يُفصَل بها بين السُّور، إلا بين سورة الأنفال وسورة التوبة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید