ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟» قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: «فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ جب گھر جائے تو اسے گھر میں تین بڑی بڑی موٹی تازی حاملہ اونٹنیاں ملیں؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اگر کوئی نماز میں تین آیتیں پڑھ لے، تو وہ اس کے لئے تین بڑی بڑی موٹی تازی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں"۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ نماز میں تین آیتیں تلاوت کرنے کا اجر و ثواب اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ انسان اپنے گھر میں تین بڑی بڑی موٹی تازی حاملہ اونٹنیاں پائے۔
فوائد
- نماز میں تلاوت قرآن کی فضیلت۔
- نیک اعمال دنیا کی فنا ہونے والے وقتی ساز وسامان سے کہیں زیادہ بہتر اور دیرپا ہیں۔
- یہ فضیلت صرف تین آیتوں کے ساتھ مقید نہیں ہے، بلکہ نمازی اپنی نماز میں جس قدر آیتیں تلاوت کرے گا اسی کے بقدر حاملہ اونٹنیوں کے مقابلہ میں اس کا اجر و ثواب بہتر ہوگا۔
تشریح: العربية
يُبَيِّن النبي صلى الله عليه وسلم أن أجر قراءة ثلاثة آيات في الصلاة؛ خير من أن يجد الإنسان في بيته ثلاث نُوْقٍ حوامل عظام سمان.
- بيان فضل قراءة القرآن في الصلاة.
- الأعمال الصالحة خير وأبقى من متاع الدنيا الفاني.
- هذا الفضل ليس مُقيَّدًا بقراءة ثلاث آيات فقط؛ فكلما زاد المصلي من قراءة الآيات في صلاته كان ثوابها خيرًا له من عددهن من الخَلِفات.