حدیث

میری امت کے آخر میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو ایسی باتیں بتائیں گے، جو نہ تم نے سنی ہوگی اور نہ تمھارے باپ دادوں نے سنی ہوگی۔ لہذا تم ان سے خبردار رہنا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ ‌أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي أُنَاسٌ يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "میری امت کے آخر میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو ایسی باتیں بتائیں گے، جو نہ تم نے سنی ہوگی اور نہ تمھارے باپ دادوں نے سنی ہوگی۔ لہذا تم ان سے خبردار رہنا۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ آپ کی امت کے آخر میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے حوالے سے گھڑ کر جھوٹی باتیں بتائیں گے اور ایسی باتیں کہیں گے، جو ان سے پہلے کسی نے نہيں کہی ہوگی۔ وہ سرعام جھوٹی باتیں کہتے پھریں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا ہے کہ ہم اس طرح کے لوگوں سے دور رہيں، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے گریز کریں اور ان کی بات نہ سنیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی بتائی ہوئی جھوٹی حدیثیں دلوں میں بیٹھ جائیں اور ان سے دامن چھڑانا مشکل ہوجائے۔

فوائد

  • اس حدیث میں نبوت کی ایک بہت بڑی نشانی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہم دیکھتے ہيں کہ اس میں آپ نے مستقبل میں سامنے آنے والی ایک بات کی اطلاع دی اور وہ ہو بہو اسی طرح سامنے بھی آئی۔
  • ایسے لوگوں سے دور رہنا اور ان کی جھوٹی باتیں سننے سے گریز کرنا چاہیے، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب منسوب کرکے اور اسلام کے بارے میں جھوٹی باتیں پھیلاتے ہوں۔
  • اس حدیث میں صحیح اور ثابت ہونے کی تصدیق کیے بغیر حدیثوں کو قبول کرنے یا عام کرنے سے خبردار کیا گیا ہے۔
تشریح: العربية

أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم بأنه سيَظهر أُناسٌ في آخِر أُمتِه يَفْتَرون الكذب، ويقولون ما لم يقلْه أحدٌ من قبلهم، فيُخبِرون بالأحاديث المكذوبة والمُخْتَلَقة، فأمَرَنا عليه الصلاة والسلام أنْ نَبْتَعِدَ عنهم ولا نجالسهم، ولا نسمع أحاديثهم؛ لئلا يتقرر ذلك الحديث المختلق في النفوس، فنعجز عن التخلُّص منه.

  • فيه عَلَم من أعلام النبوة، حيث إن النبي صلى الله عليه وسلم أخبر بما سيقع في أمته، فكان كما أخبر.
  • الابتعاد عمّن يَكْذِبُ على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلى دين الإسلام، وعدم الاستماع لكذبهم.
  • التحذير من قبولِ الأحاديث أو نشرِها إلا بعد التأكُّد من صحتِها وثبوتِها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید