حدیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وضو کے اعضا کو دو دو بار دھویا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه البخاري

عربی متن

عَنْ ‌عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ رضي الله عنه: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ.

ترجمہ

عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وضو کے اعضا کو دو دو بار دھویا۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم وضو کرتے وقت کبھی کبھی وضو کے اعضا کو دو دو بار دھویا کرتے تھے۔ چنانچہ اپنے چہرے کو دو بار دھوتے (جس میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنا بھی شامل ہے) اور اپنے ہاتھوں اور پیروں کو بھی دو دو بار دھوتے۔

فوائد

  • اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا واجب اور ایک سے زیادہ بار دھونا مستحب ہے۔
  • وضو کے اعضا کو کبھی کبھی دو دو بار بھی دھونا مشروع ہے۔
  • سر کا مسح ایک ہی بار کرنا مشروع ہے۔
تشریح: العربية

كان النبيُّ صلى الله عليه وسلم في بعض أحيانِه إذا توضأ غَسَلَ كلَّ عضو من أعضاء الوضوء مرتين، فيَغْسِل الوجهَ -ومنه المضمضة والاستنشاق- واليدين والرجلين مرتين.

  • الواجب في غسل الأعضاء مرة واحدة وما زاد فهو مستحب.
  • مشروعية الوضوء مرتين مرتين في بعض الأحيان.
  • المشروع في مسح الرأس مرة واحدة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید