حدیث

جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کچھ محسوس ہو اور اسے شبہ ہو جائے کہ اس میں سے کچھ نکلا ہے یا نہیں، تو ہرگز مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو محسوس کر لے"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ ‌أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهِ شَيْئًا، فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَخَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمْ لَا، فَلَا يَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کچھ محسوس ہو اور اسے شبہ ہو جائے کہ اس میں سے کچھ نکلا ہے یا نہیں، تو ہرگز مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو محسوس کر لے"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب نمازی کے پیٹ میں کوئی چیز ادھر سے ادھر آئے جائے اور اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو کہ پیٹ سے کچھ نکلا ہے یا نہیں، تو نماز توڑ کر دوبارہ وضو کرنے کے لیے اس وقت تک باہر نہ نکلے، جب تک اسے یقین نہ ہو جائے کہ وضو ٹوٹ ہی گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ ریح خارج ہونے کی آواز سن لے یا اس کی بدبو محسوس ہونے لگے۔ کیوں کہ یقین شک کی بنیاد پر زائل نہيں ہوتا اور یہاں طہارت کا ہونا ایک یقینی امر ہے، جب کہ وضو ٹوٹا ہے یا نہیں، اس بات میں شک ہے۔

فوائد

  • یہ حدیث اسلام کی ایک اہم ترین اساس ہے, اور اس کے اندر ایک فقہی قاعدہ کا بیان ہے جو کہ یہ ہے کہ یقین شک کی بنیاد پر زائل نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ جو چیز تھی اور جس حالت میں تھی، وہ رہے گی اور اسی حالت میں رہے گی، جب تک اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ معاملہ برعکس ہو گیا ہے۔
  • شک طہارت پر اثر انداز نہيں ہوتا۔ نمازی کی طہارت اس وقت تک باقی رہے گی، جب تک طہارت ٹوٹنے کا یقین نہ ہو جائے۔
تشریح: العربية

بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّه إذا تردَّد في بطن المصلي شيءٌ، فالتَبَسَ عليه أَخَرَجَ منه شيءٌ أم لا؟ فلا ينصَرف مِن صلاته ويقطعها لإعادة الوضوء، حتى يتيقَّن وجودَ الحَدَثِ الناقِضِ لوضوئه؛ بأنْ يسمعَ صوتَ الرِّيح، أو يَشمَّ الرائحة؛ لأن المتَيقَّن لا يبطلُه الشَّك، وهو قد تيقَّن الطَّهارةَ، والحَدَثُ مشكوكٌ فيه.

  • هذا الحديث أصل من أصول الإسلام وقاعدة من قواعد الفقه، وهي: أن اليقين لا يزول بالشك، والأصل بقاء ما كان على ما كان، حتى يتيقن خلاف ذلك.
  • الشك غير مؤثر في الطهارة، والمصلي باقٍ على طهارته ما لم يتيقن حَدَثًا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید