ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنها أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ، لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ».
ترجمہ
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو، کیوں کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں فرشتوں کے سامنے دس بار اس کی تعریف کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو، کیوں کہ وہ جنت میں ایک مقام ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔ چناں چہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔‘‘
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کی اذان سننے والے کو حکم دیا ہے کہ وہ مؤذن کے ذریعے کہے جانے والے الفاظ کو اس کے پیچھے پیچھے دہرائے اور جیسا جیسا مؤذن کہتا جائے، ویسا ویسا وہ بھی کہتا جائے۔ بس "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" کو چھوڑ کر۔ ان دونوں جملوں کے بعد "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" کہے۔ پھر اذان ختم ہونے کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجے۔ کیوں کہ جو شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ایک بار درود بھیجے گا، اللہ تعالی اس کے بدلے میں فرشتوں کے سامنے دس بار اس کی تعریف کرے گا۔ بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ اللہ سے آپ کے لیے وسیلہ مانگا جائے۔ دراصل وسیلہ جنت کا ایک مقام ہے، جو اس کا سب سے اونچا مقام ہے اور وہ مقام اللہ کے تمام بندوں میں سے صرف ایک بندے کو میسر ہوگا اور آپ نے بتایا کہ مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی رہوں گا۔ دراصل آپ نے یہ بات بطور تواضع کہی ہے، کیوں کہ جب وہ اونچا مقام اللہ کے بس ایک ہی بندے کو میسر ہوگا، تو اللہ کا وہ ایک ہی بندہ آپ ہی ہوں گے۔ کیوں کہ آپ خیر الخلائق ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے اللہ سے وسیلہ مانگا، اسے آپ کی شفاعت نصیب ہوگی۔
فوائد
- مؤذن کا جواب دینے کی ترغیب۔
- مؤذن کا جواب دینے کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کی فضیلت۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجنے کے بعد آپ کے لیے اللہ سے وسیلہ مانگنے کی ترغیب۔
- وسیلہ کے معنی اور اس کی اس اہمیت کا بیان کہ وہ اللہ کے بس ایک ہی بندے کو نصیب ہوگا۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان کہ یہ بلند مقام صرف آپ کے لیے خاص ہے۔
- جو شخص اللہ تعالی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وسیلہ مانگے گا، وہ آپ کی شفاعت کا حق دار بن جائے گا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تواضع کا بیان کہ آپ نے اپنی امت سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ آپ کے لیے اس مقام کی دعا کیا کریں، باوجود اس کے کہ یہ مقام آپ ہی کو حاصل ہوگا۔
- اللہ کا بے پایاں فضل و کرم کہ وہ نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہے۔
تشریح: العربية
أَرْشَدَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم مَن سمع المؤذِّنَ للصلاة أنْ يُردِّدَ خلفه فيقول مثلَ قولِه، ما عدا الحَيْعَلَتَيْن، فإنه يقول بعدهما: لا حول ولا قوة إلا بالله، ثم يصلي على النبي صلى الله عليه وسلم عقب الانتهاء من الأذان، فإنه من صلّى عليه صلاةً واحدة صلى الله عليه بسببِها عشر صلوات، ومعنى صلاة الله على عبدِه: ثناؤه على العبد عند الملائكة. ثم أمر بسؤال الله الوسيلةَ له صلى الله عليه وسلم، وهي مَنْزِلَةٌ في الجنة، وهي أعلاها، لا تصلح ولا تتيسر تلك المنزلة إلا لعبد واحد من جميع عباد الله تعالى، وأرجو أن أكون هو أنا، وإنما قال صلى الله عليه وسلم ذلك تواضعًا؛ لأنه إذا كانت تلك المنزلة الرفيعة لا تكون إلا لواحد، فلا يكون ذلك الواحد إلا هو صلى الله عليه وسلم؛ لأنه أفضل الخلق. ثم بَيَّنَ صلى الله عليه وسلم أنَّ مَن دعا للنبيِّ صلى الله عليه وسلم بالوسيلةِ حَصَلَتْ له شفاعتُه صلى الله عليه وسلم.
- الحث على إجابة المؤذن.
- فضل الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم بعد إجابة المؤذن.
- الحث على سؤال الوسيلة للنبي صلى الله عليه وسلم بعد الصلاة عليه.
- بيان معنى الوسيلة، وعلو شأنها، حيث لا تصلح إلا لعبد واحد.
- بيان فضل النبي صلى الله عليه وسلم حيث اختُص بتلك المنزلة الرفيعة.
- من سأل الله تعالى الوسيلة للنبي صلى الله عليه وسلم حلت له الشفاعة.
- بيان تواضعه صلى الله عليه وسلم حيث طلب من أمته الدعاء له بتلك المنزلة، مع أنها ستكون له.
- سعة فضل الله ورحمته، فالحسنة بعشر أمثالها.