حدیث

اے بلال! نماز قائم کرو، اس کے ذریعے مجھے راحت پہنچاؤ۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود

عربی متن

عن سالم بن أبي الجَعْدِ قال: قال رجل: ليتني صَلَّيتُ فاسترحْتُ، فكأنّهم عابُوا ذلك عليه، فقال: سمعتُ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم يقول: «يا بلالُ، أقِمِ الصَّلاةَ، أرِحْنا بها».

ترجمہ

سالم بن ابو جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ ایک شخص نے کہا: کاش میں نماز پڑھتا اور راحت حاصل کرتا، تو صحابہ نے ایک طرح سے ان کی بات کو برا جانا۔ لہذا اس نے بتایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "اے بلال! نماز قائم کرو، اس کے ذریعے مجھے راحت پہنچاؤ۔"

تشریح

ایک صحابی نے کہا : کاش میں نماز پڑھتا اور راحت حاصل کرتا، تو ان کے آس پاس کے لوگوں نے ایک طرح سے ان کی اس بات کو برا جانا، لہذا انھوں نے بتایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: اے بلال! نماز کے لیے اذان دو اور جماعت کھڑی کرو، تاکہ ہم اس کے ذریعے راحت حاصل کریں۔ ایسا اس لیے کہ نماز میں اللہ سے سرگوشیاں ہوتی ہیں اور اس سے قلب و روح کو راحت ملتی ہے۔

فوائد

  • نماز سے راحتِ قلب حاصل ہوتی ہے، کیوں کہ نماز اللہ تعالی سے سرگوشی کرنے کا ذریعہ ہے۔
  • عبادت میں کوتاہی کرنے والے کی تردید۔
  • جس نے اپنا فرض ادا کر کے اپنا سر ہلکا کر لیا، اسے اس سے ایک طرح کی راحت ملتی ہے اور اطمینان کا احساس ہوتا ہے۔
تشریح: العربية

قال رجلٌ من الصحابة: ليتني صَليتُ فاستَرحتُ، فكأنَّ مَن حَوله عابُوا ذلك عليه، فقال: سمعتُ النبيَّ صلى الله عليه وسلم يقول: يا بلال! ارفع أذانَ الصلاةِ وأقِمْها؛ لنَستريحَ بها؛ وذلك لِمَا فيها من مناجاة لله تعالى، وراحة للروح والقلب.

  • راحة القلب تكون بالصلاة؛ لما فيها من مناجاة الله تعالى.
  • الإنكار على مَن تَثَاقَلَ عن العبادة.
  • مَن أدَّى الواجِبَ الذي عليه، وأبرأ ذِمَّتَه منه، حَصَلتْ له بذلك راحةٌ وشعورٌ بالاطمئنان.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید