حدیث

لوگو! میں نے یہ سب کچھ اس لیے کیا، تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔‘‘

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عن أَبِي حَازِمِ بْن دِينَارٍ: أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِمَّ عُودُهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَاللهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ، وَأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ -امْرَأَةٍ من الأنصار قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ-: «مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ»، فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ هَاهُنَا، ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى، فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا وَلِتَعَلَّمُوا صَلَاتِي».

ترجمہ

ابو حازم بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان کے درمیان اس بات کے سلسلہ میں بحث ہو گئی تھی کہ اللہ ﷺ کا منبر کس لکڑی سے تیار ہوا تھا؟ انہوں نے اس کی بابت حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی سے تیار ہوا تھا۔ میں نے اسے پہلے دن بھی دیکھا جب اسے تیار کر کے رکھا گیا تھا اور اس وقت بھی دیکھا جب اس پر پہلے دن رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہوئے۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری عورت کو، جس کا نام سہل رضی اللہ عنہ نے لیا تھا، یہ کہلا بھیجا: ’’تم اپنے بڑھئی غلام سے کہو کہ وہ میرے لیے لکڑیوں کا ایک منبر بنا دے، تاکہ میں جب لوگوں سے مخاطب ہوں، تو اس پر بیٹھا کروں۔‘‘ چنانچہ اس عورت نے اپنے غلام کو یہ حکم دیا، تو وہ جنگل کے جھاؤ درخت سے (منبر) تیار کر کے اس کے پاس حاضر کر دیا اور اس نے اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا۔ پھر آپ کے حکم سے اسے یہاں رکھ دیا گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز پڑھنا شروع کیا۔ تکبیر تحریمہ اس کے اوپر کہی، پھر آپ نے رکوع بھی اسی کے اوپر کیا، پھر پیچھے ہٹتے ہوئے نیچے اتر آئے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا۔ پھر واپس منبر پر آ گئے۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’لوگو! میں نے یہ سب کچھ اس لیے کیا، تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔‘‘

تشریح

ایک شخص ایک صحابی کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جو منبر بنوایا تھا، وہ کس لکڑی کا تھا؟ دراصل ان کے بیچ اس سلسلے میں بحث ہو گئی تھی۔ چنانچہ اس صحابی نے بتایا کہ آپ نے ایک انصاری عورت کو، جس کے پاس ایک بڑھئی غلام تھا، کہلا بھیجا کہ اپنے غلام سے کہو کہ میرے لیے ایک منبر بنا دے، جس پر بیٹھ کر میں لوگوں سے بات کر سکوں۔ چنانچہ اس عورت نے آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے غلام کو آپ کے لیے جھاؤ درخت کی لکڑی کا ایک منبر بنانے کا حکم دیا۔ جب منبر بن کر تیار ہو گیا، تو اس عورت نے اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بھیج دیا۔ پھر آپ کے حکم سے اسے مسجد کے اندر اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر کھڑے ہوکر نماز پڑھی۔ تکبیر اسی پر کھڑے ہوکر کہی، پھر رکوع اسی پر کھڑے ہوکر کیا، پھر منبر سے اتر کر چہرہ گھمائے بغیر کچھ پیجھے ہٹے، منبر کے پاس سجدہ کیا اور پھر منبر پر آ گئے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے، تو لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : لوگو! میں نے ایسا اس لیے کیا، تاکہ تم میرا اتباع کر سکو اور میری نماز سیکھ سکو۔

فوائد

  • منبر رکھنا اور اس پر کھڑے ہوکر خطبہ دینا مستحب ہے۔ دراصل اس کا مقصد اپنی بات پہنچانا اور سنانا ہوا کرتا ہے۔
  • تعلیم دینے کے لیے منبر پر نماز پڑھنا جائز ہے۔ اسی طرح کی ضرورت کی بنا پر امام کا مقتدی سے اونچی جگہ پر کھڑے ہونا بھی جائز ہے۔
  • مسلمانوں کی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ہنرمند لوگوں سے مدد طلب کرنا جائز ہے۔
  • ضرورت پڑنے پر نماز کے دوران تھوڑی بہت حرکت کرنا جائز ہے۔
  • نماز کے دوران مقتدی کا امام کی طرف سیکھنے کی نیت سے دیکھنا جائز ہے۔ یہ خشوع وخضوع کے منافی نہیں ہے۔
تشریح: العربية

جاء رجالٌ إلى أحدِ الصحابة يسألونه عن المنبرِ النبويِّ الذي اتخذه رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: ممَّ صُنع؟ وقد تجادلوا وتنازعوا في ذلك، فَذَكَرَ لهم أنه صلى الله عليه وسلم بَعث إلى امرأةٍ من الأنصار كان لها خادمٌ نجَّار، فقال لها: مُرِيْ غلامَك أنْ يَصنعَ لي منبرًا أَجلِسُ عليه حين أُكَلِّمُ الناسَ، فأجابت المرأةُ، وأمَرتْ غلامَها أن يصنع للنبي صلى الله عليه وسلم منبرًا من شجر الطَّرْفاء، ولَمَّا فَرَغَ أَرسلت المرأةُ به إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فأَمََرَ به فوُضع مكانَه من المسجد، ثم صلى النبي صلى الله عليه وسلم عليه وكَبَّرَ وهو عليه، ثم ركع وهو عليه، ثم نزل يمشي إلى خلف من غير أن يَلْفِتَ وجهَه إلى جهة الخلف فسجد في أَصْلِ المنبر ثم عاد، فلما فرغ من الصلاة أقبل على الناس، وقال: أيها الناس، إنما صنعتُ هذا لتأتموا ولِتَعَلَّموا صلاتي.

  • استحباب اتخاذ المنبر وارتقاء الخطيب عليه، وفائدته الإبلاغ والإسماع.
  • جواز الصلاة على المنبر للتعليم، وجواز ارتفاع الإمام على المأموم لحاجة.
  • جواز الاستعانة بأهل الصناعات في حوائج المسلمين.
  • جواز الحركة اليسيرة في الصلاة للحاجة.
  • جواز نظر المأموم إلى إمامه في الصلاة؛ ليتعلم منه وأن ذلك لا ينافي الخشوع.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید