حدیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رکوع سے پیٹھ اٹھاتے، تو یہ دعا پڑھتے : "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنِ ‌ابْنِ أَبِي أَوْفَى رضي الله عنه قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ ظَهْرَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ».

ترجمہ

عبداللہ بن ابو اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رکوع سے پیٹھ اٹھاتے، تو یہ دعا پڑھتے : "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ۔" (اللہ نے اس کی سن لی، جس نے اس کی تعریف کی٭۔ اے اللہ! ہمارے رب! تیری ہی تعریف ہے آسمانوں کی وسعتوں کے برابر، زمین کی وسعتوں کے برابر اور اس کے بعد بھی تو جو چاہے، اس کی وسعتوں کے برابر۔)

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز میں رکوع سے سر اٹھاتے، تو فرماتے : "سمع الله لِمَن حمده"۔ یعنی جس نے اللہ کی تعریف کی، اللہ اس کی تعریف کو قبول کرتا ہے اور اسے ثواب عطا کرتا ہے۔ اس کے بعد ان الفاظ میں اللہ تعالی کی تعریف کرتے : "اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ۔" یعنی اللہ کی تعریف ہے آسمانوں کی وسعتوں کے برابر، زمین کی وسعتوں کے برابر، ان دونوں کے بیچ کی وسعتوں کے برابر اور ان تمام چیزوں کی وسعتوں کے برابر جو اللہ چاہے۔

فوائد

  • اس ذکر کا بیان جو رکوع سے سر اٹھاتے وقت کہنا مستحب ہے۔
  • رکوع سے اٹھنے کے بعد اطمینان کے ساتھ سیدھا کھڑا ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ اس پورے ذکر کو پڑھنا اسی وقت ممکن ہے، جب آدمی پورے اطمینان کے ساتھ کھڑا ہو۔
  • یہ ذکر ہر نماز میں مشروع ہے، خواہ فرض ہو یا نفل۔
تشریح: العربية

كان النبيُّ صلى الله عليه وسلم إذا رفع ظهرَه مِن الركوع في الصلاة يقول: "سمع الله لِمَن حمده"، أي: أنّ مَن حَمِدَ الله تعالى استجاب الله تعالى له، وقَبِل حَمْدَه وأثابَه، ثم يحمد الله بقوله: " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ "، حَمْدًا يملأُ السماوات والأرضين وما بينهما، ويملأ ما شاء الله من شيء.

  • بيان ما يُستَحبُّ أن يقولَه المصلي إذا رفع رأسه من الركوع.
  • مشروعية الاعتدال والطمأنينة بعد الرفع من الركوع؛ لأنه لا يمكن أن يقول هذا الذكر إلا إذا اعتدل واطمأن.
  • هذا الذكر مشروع في جميع الصلوات سواء كانت فرضًا أو نفلًا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید