ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَقِيَ اللهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا لَمْ تَضُرَّهُ مَعَهُ خَطِيئَةٌ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يُشْرِكُ بِهِ لَمْ يَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ».
ترجمہ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو کوئی گناہ اسے نقصان نہیں دے گا، اور جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہو تو کوئی نیکی اسے فائدہ نہیں دے گی۔»
تشریح
نبی ﷺ نے خبر دی کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کو ایک ماننے والا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنتیوں میں سے ہے، اگرچہ اسے اس کے گناہوں کے سبب آگ میں سزا دی جائے۔ اور جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، تو شرک کے ہوتے ہوئے اسے کوئی نیکی فائدہ نہیں دے گی اور جنت اس پر حرام ہے۔
فوائد
- شرک سے متنبہ کرنا کہ یہ عظیم ترین گناہ ہے، اور اللہ تعالیٰ اسے معاف نہیں فرماتا۔
- توحید کی فضیلت اور یہ کہ وہ جنت میں داخلے کا سبب ہے، چاہے عذاب دیے جانے کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔
- توحید پر مرتے دم تک ثابت قدم رہنے، اور اس کی ضد یعنی شرک سے اجتناب کرنے کی اہمیت۔
تشریح: العربية
أخبر النبي صلى الله عليه وسلم أن من مات ولقي الله موحِّدًا لا يشرك به شيئًا فهو من أهل الجنة، ولو عُوقب بذنبه في النار، ومن مات وهو يشرك بالله شيئًا لم تنفعه مع الشرك حسنة؛ والجنة عليه حرام.
- التحذير من الشرك، وأنه أعظم الذنوب والخطايا، وأن الله لا يغفره.
- فضل التوحيد، وأنه موجب لدخول الجنة؛ حتى ولو بعد أن يُعذب.
- أهمية الثبات حتى الممات على التوحيد، وعدم ارتكاب ضده من الشرك.